When anger turned into desire — Roman and Mero’s intense love story unfolds Ishq Di Chaashni

رومان خود نہیں جانتا تھا کہ وہ میرو کو اس حالت میں دیکھ کیوں خود کو اسکے قریب جانے سے روک نہیں پا رہا تھا۔۔ایسا تو کبھی شمائل کو دیکھ کر بھی نہیں جزبات بھڑکے تھے جیسے میرو کو اس حال میں دیکھ کر وہ بےقابو ہو رہا تھا۔۔۔

“اچھا تو اب آپ کو برا لگ رہا ہے جب اس پر کٹی کبوتری کے ساتھ آپ باہر گھومتے پھرتے تھے تب آپ کو یاد نہیں آتا تھا اب میرے باہر ارحم کے ساتھ گھومنے سے آپ کو آگ کیوں لگ رہی ہے “۔۔۔

وہ چیخ چیخ کر بولتی کسی اور کا زکر کرتی اسے پاگل کر گئی تھی۔۔”کیونکہ مجھے جلن ہوتی ہے میں نہیں دیکھ سکتا اس شخص کو تمہارے ساتھ تم صرف میری ہو میرا حق ہے تم پر “۔۔۔وہ غصے سے اسکا منہ دبوچتے بولا۔۔۔”اچھا اپنے لیے اصول اور میرے لیے اور اصول طے کر رکھے ہیں آپ نے بتائیے اگر آپ کو مجھ سے محبت نہیں تھی تو آپ نے مجھ سے شادی ہی کیوں۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی چھوڑ سکتے ہیں مجھے آپ “۔۔۔۔میرو کی اتنی سخت باتیں اسے جلا کر راکھ کر گئیں تھی آخر وہ کیسے اسکے علاوہ کسی اور کو اہمیت دے سکتی تھی۔ اس بات نے اسکی عقل معاؤف کر کے رکھ دی تھی

“اچھا ایسی بات ہے تو پھر ٹھیک ہے آج میں تمہیں اپنا ہی لیتا ہوں نہ ہی پھر تم مجھ سے راہِ فرار اختیار کرو گے نہ ہی تم کسی اور کے ساتھ جا پاؤ گی ٹھیک ہے نا اب میں تم سے دور نہیں جاؤں گا “۔۔۔

وہ اسے طنزیہ انداز میں دیکھتے بولا اور اسکے سرخ اپیل کرتے لبوں کو دیکھتے بغیر سوچے سمجھے بےقابو ہوتے جھکا تھا۔ “کیا ہو گیا ہے آپ کو دور رہیے مجھ سے میں اور ارحم صرف بھائی بہن ہی ہیں وہ بہن بنا کر ہی مجھے باہر میرا موڈ درست کرنے کے لیے لے کر گیا تھا  تاکہ جو آپ نے میرا دل توڑا ہے کم از کم وہ ٹھیک تو ہو سکے اور اطلاع کے لیے عرض ہے ہم اکیلے نہیں ساتھ آپی بھی تھیں بس وہ آپ کے سامنے نہیں آئیں “۔وہ تنک کر بولی۔”تو اتنی دیر سے تم مجھے جلا رہی تھی۔”وہ آئیبرو اچکاتے بولا۔”کیوں آپ ماچس کی تیلی ہیں کیا جو جل جائیں گے”۔وہ اپنے بال لہرا کر اس کے منہ پر مارتی بولی۔”پلیز بس بہت ہو گیا مجھ سے یوں بے رخی مت برتو کیونکہ میں جانتا ہوں میں غلط تھا اس کے لیے میں تم سے آ کے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں پلیز مجھ سے دور مت جاؤ مجھے احساس ہو گیا ہے” وہ اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے نادم لہجے میں بولا جب وہ زیرِ لب مسکرائی معاف تو وہ اسے کب کی کر چکی تھی مگر احساس دلانا تو باقی تھا نہ۔۔”ابھی تو میں نے آپ کو اپنی ناراضگی دکھائی ہی نہیں اور آپ کی جان لبوں پر آگئی ” وہ اسے کمرے سے باہر دھکا دیتے بولی۔۔”یار اب اتنی سزا تو مت کرو میرو آئی ایم سوری “”اچھا جی تو پھر منائیں مجھے میرا دل جیتیں”۔یہ کہ کر وہ اسے مشکل میں ڈال گئی تھی پھر کیا تھا وہ روز اس کے لیے سوری کے بکے لاتا کبھی کوئی ڈریس تو کبھی کوئی جیویلری مگر وہ مانتی ہی نہیں تھی الٹا اسے ایسے  رجھاتی کہ جزابت کی شدت سے رومان کے منہ سے دھویں نکل آتے ۔۔اب بھی وہ اس کے سامنے سرخ رنگ کی نیٹ کی فراک میں آئی۔اس کا گداز بدن شدت سے اسے اپنی جانب مائل کرنے لگا تھا۔”کم از کم مجھے یوں اپنی ادائیں دکھا کر اپنی جانب راغب مت کرو  ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم مجھ سے کافی سال چھوٹی ہو  ” وہ ناک پھلاتے بولا جب وہ ایک ادا سے کمر سے بال ہٹاتے بولی تھی۔۔”تو روکا کس نے ہے” وہ آنکھ میچتے بولی تو رومان کی انتہا بس یہیں تک تھی اگلے ہی پل وہ اسے باہوں میں بھرتے کمرے میں لے گیا تھا اور بیڈ پر جا پٹخا تھا۔۔۔وہ ہر طرح سے آج اسے گھائل کرنا چاہتی تھی۔ اسلئے اپنے محبوب کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی اس نے ۔ مگر دل میں ابھی بھی ایک ڈر تھا۔ کہیں وہ کچھ غلط تو نہیں کر رہی مگر رومان اب صرف اس کا ہے اس بات کا یقین اسے اس بار رومان نے اپنے ہر ایک عمل سے دلایا تھا۔۔” میری جان میری میرو” اس نےلپک کے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھ اور جھک کر اسکے ہونٹوں پر  لب رکھے تھے۔”کیا اب تو تم صرف مجھے اپنا مانتی ہو نہ میں سچ میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں میرو اور کسی سے نہیں میرا یقین کرو”۔۔اس کی دل سوز بات پر میرو تڑپ اٹھی تھی۔”میں صرف آپ ہوں رومان۔ میرے وجود پر صرف آپکا حق ہے۔وہ اُسکے قریب ہوئی”۔ “رب کا جتنا شکر کروں اتنا کم ہے جس نے مجھے تم جیسی بیوی سے نوازا آئی ایم سو لکی جس نہیں مجھے وقت رہتے اس چڑیل کے چنگل سے بچا لیا “۔۔وہ اسے قریب کرتے بولا۔”یہ کیا کر رہے ہیں”۔ وہ انجان بننے كا ناٹک کرتے بولی جب رومان نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا۔”تمہارے وجود پر صرف میرا حق ہے تو اس سنگِ مرمر سے تراشے بدن کو میں کیونکر محسوس نہ کروں۔  کتنا کہا تھا اپنے  جسم گز بھر کے تھان سے ڈھانپ کر رکھا کرو اب مجھے اپنی خوبصورتی کے نظارے کراتے کراتے تم جانے انجانے مجھے بہکا چکی ہو اب میں تمہاری ناراضگی ختم ہونے کے انتظار کب تک کرتا” ۔وہ اس کے بال پکڑ کر اس کے منہ پر لگاتے ہوئے بولا تھا جس سے میرو کے منہ پر  گدگدی ہونے لگی تھی وہ

اپنا منہ گدگدی سے تنگ آ کر جھٹک رہی تھی

 

Recommended Posts