اس نے شائنہ کا منہ دبوچ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔۔ کون ہے وہ شخص جو مجھ سے زیادہ محبت دینے لگا ہے تمہیں ہاں کون ہے وہ شخص جواب دو مجھے ؟؟ وہ سخت لہجے میں اسے گھورتا ہوا بولا۔۔ وہ جو کوئی بھی ہے تمہیں اس سے کیا ؟؟ تم مجھے چھوڑ دو بس۔۔ وہ اٹھ کر اس کے سامنے آ کر بولی۔۔ میں مر کر بھی نہیں چھوڑوں گا تمہیں یہ میری بات اپنے پلے باندھ لو۔۔۔ مجھ سے جان چھڑوا کر تم اس شخص سے شادی کرو گی ہاں ؟؟ ہاں۔۔ میں اس سے شادی کروں گی کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو بےپناہ چاہتے ہیں بس ایک دفعہ تم مجھے آزاد کر دو کبھی پلٹ کر بھی تمہاری طرف نہیں دیکھوں گی میں۔۔۔ اس کے یہ الفاظ احمر کے سینے پر کسی خنجر کی طرح جا لگے تھے۔۔۔ اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا وہ کمرے سے باہر لے آیا تھا۔۔ چھ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔ م۔۔مجھے درد ہو رہا ہے چھوڑو مجھے۔۔۔ آٹھ سال میں نے تمہیں اتنی محبت دی اتنی عزت دی تمہاری ہاں میں ہاں ملاتا رہا تمہاری ہر خواہش کو میں نے پورا کیا تمہارے لیے سب سے لڑتا رہا اور تم نے مجھے یہ صلہ دیا۔۔ میرا نہیں تو کم از کم اپنے معصوم بچوں کا ہی خیال کرلو۔۔ نہیں کرنا مجھے کسی کا بھی خیال میں اب اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہوں۔۔ تو کیا تم میرے ساتھ اپنی زندگی اپنی مرضی سے نہیں جی رہی تھی ؟؟؟ نہیں۔۔ بالکل نہیں جی رہی تھی تمہاری اس فضول سی محبت میں مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے اس لیے میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی پاگل تھی میں جس نے تم جیسے انسان سے شادی کی۔۔ افسوس ہے شائنہ مجھے تم پر میرے پاس جتنی محبت تھی میں نے تمہیں ساری محبت دے دی مگر اب سے تم میری نفرت دیکھو گی۔۔ کبھی میں نے تمہارے ساتھ اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی مگر آج تم نے مجھے مجبور کیا۔۔ میری بیوی میری محبت میرا مان میرا غرور آج میرے سامنے کھڑی ہو کر مجھ سے کہہ رہی ہے کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔۔ کہاں کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ؟؟ یہ کہتے ہوئے احمر کی آنکھیں نم ہو گئیں تھی کیونکہ وہ اسے حد سے زیادہ چاہتا تھا وہ ایک وفادار مرد تھا اس نے کبھی کسی دوسری عورت کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا کہ کہیں شائنہ ہرٹ نہ ہو جائے۔۔ مجھے تمہاری یہ فضول بک بک نہیں سنی احمر تم جیسا مرد اب مجھے نہیں چاہیے کیا یہ تم میرے سامنے کھڑے ہو کر عورتوں کی طرح ٹسمے بہا رہے ہو بس اسی لیے تم مجھے اچھے نہیں لگتے تم مرد ہو ہی نہیں۔۔ یہ وہی شائنہ تھی جو کچھ جس نے اپنے ماں باپ چھوڑے تھے احمر سے شادی کرنے کے لیے جو اتنے سال سے احمر کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہی تھی مگر جب سے اسکی دوستی مہک سے ہوئی تھی وہ بہت زیادہ بدل سی گئی تھی کیونکہ مہک ایک اچھی لڑکی نہیں تھی اس کی دوستی بہت سے لڑکوں کے ساتھ تھی اس کے ذریعے ہی شائنہ بدران سے ملی تھی اور ملنے کے کچھ ٹائم بعد ہی بدران نے اسے پروپوز کر دیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اس وقت تو شائنہ نے اس کا پروپوزل ایکسیپٹ نہیں کیا تھا مگر مہک کے بار بار اسرار پر اس نے بدران کا پروپوزل ایکسیپٹ کر لیا تھا کیونکہ مہک اسے احمر کے خلاف بھڑکاتی تھی اور شائنہ ایسی لڑکی تھی جو بہت جلد دوسروں کی باتوں میں آ جاتی تھی۔۔

شائنہ جب سو کر اٹھی تو اس نے اپنے پاس لیٹے اپنے بیٹے کو دیکھا جو گہری نیند سو رہا تھا وہ اسے پیار کرنے لگی۔۔ “میرا بیٹا”۔۔ اتنے میں اس کا موبائل بجنے لگا اس نے دیکھا مہک کی کال تھی۔۔ ہیلو ؟؟ ہیلو شائنہ کہاں ہو تم کافی دیر سے میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں آئی کیوں نہیں ابھی تک تم ؟؟ یار وہ رات کو لیٹ سوئی تھی اس لیے آنکھ ہی نہیں کھلی مجھے بس دس منٹ دو میں تیار ہو کر آ جاتی ہوں۔۔ ٹھیک ہے جلدی آؤ بدران بھی تمہارا انتظار کر رہا ہوگا جانتی ہو نا تم آج ساری شاپنگ مکمل کرنی ہے اب زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔
ہاں ہاں جانتی ہوں میں بس آ رہی ہوں۔۔ وہ فورا اٹھی الماری سے اپنا ڈریس نکالا اور شاور لینے کے لیے چلی گئی۔۔ آج اس نے بلیک شلوار قمیض پہنا تھا جو احمر کی پسند کا تھا مگر آج یہ بلیک شلوار قمیض اس نے کسی اور کے لیے پہنا تھا۔۔ وہ تیار تیار ہو کر ابھی گھر سے نکلی ہی تھی کہ اس کے جانے کے دس منٹ بعد احمر گھر آگیا تھا۔۔ وہ جب اندر گیا تو اس نے دیکھا فہد کمرے میں اکیلا سو رہا تھا اس نے شائنہ کو آواز دی ہر جگہ دیکھا مگر اسے کہیں نہیں ملی۔۔۔ وہ کچن میں گیا ملازمہ سے پوچھا تو اس نے بتایا دس منٹ پہلے ہی شائنہ میڈم تیار ہو کر اپنی دوست کے ساتھ گئی ہیں۔۔ یہ سن کر وہ غصے سے لال ہو گیا۔۔ اس نے فورا شائنہ کا نمبر ملایا مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔ اس نے زور سے موبائل سامنے صوفے پر دے مارا۔۔۔ کتنی بے ڈر ہے یہ لڑکی۔۔ آج اسے چھوڑوں گا نہیں ایک بار گھر واپس آنے دو اسے۔۔ احمر کا دل چاہ رہا تھا ہر چیز تہس نہس کر کے رکھ دے نہ جانے کیسے وہ اپنے غصے پر قابو پائے ہوئے تھا۔۔ فہد جب سو کر اٹھا تو وہ زور زور سے رونے لگا۔۔ ملازمہ نے اسے چپ کروانے کی بہت کوشش کی مگر وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔ احمد جب نوری کو سکول سے واپس لے کر ایا تو اس نے فہد کو گود میں لیا اور اسے پوچھنے لگا تو وہ بس ماما ماما ہی کیے جا رہا تھا مگر ماں تو کسی اور شخص کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی اسے کہاں بچوں کی پرواہ تھی۔۔ ملازمہ نے نوری کو تیار کیا تو وہ اپنے دونوں بچوں کو آج باہر گھمانے کے لیے لے گیا اور ملازمہ سے کہہ کر گیا کہ جیسے ہی شائنہ گھر آئے مجھے فورا کال کر دینا۔۔
بابا آپ بھی آئیں نا پلیز دیکھیں سب کے ماما بابا ان کے ساتھ جھولے لے رہے ہیں ماما تو ہمارے ساتھ اب کہیں جاتی ہی نہیں ہیں بس بات بات پر ہمں ڈانٹ
دیتی ہیں۔۔۔ نوری کی اس بات پر احمر بہت زیادہ ہرٹ ہوا۔۔ کیا کہتی ہیں ماما آپ کو بتائیں مجھے نوری۔۔ بابا فہد ماما سے فیڈر مانگتا ہے تو ماما اس کو مارتی ہیں کہتی ہیں کہ مجھ سے مت مانگو جا کر ملازمہ سے مانگو پہلے تو ماما ایسا نہیں کرتی تھی ہمارے ساتھ اتنا پیار کرتی تھی ہماری ساری وشز کو پورا کرتی تھی لیکن بابا اب ماما بہت زیادہ بدل گئی ہیں ماما کی فرینڈ مہک آنٹی ہیں نا جو وہ جب بھی گھر آتی ہیں ہمیں روم سے باہر نکال دیتی ہیں کہتی ہیں شور مت کرو جاؤ یہاں سے میرا سر دکھ رہا ہے تم لوگوں کی وجہ سے اور بابا آپ کو پتہ ہے وہ ماما کے ساتھ بس ایک انکل کی باتیں کرتی ہیں کہ وہ ماما کو ایسے بول رہے تھے بابا وہ انکل کون ہیں ؟؟ یہ سب اپنی پانچ سال کی معصوم سی بیٹی کے منہ سے سن کر اس کے پیروں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی تھی اس کے آنسو اس کے گلے میں اٹک گئے تھے۔۔۔ اس نے اپنی بیٹی کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور انہیں مسلسل چومنے لگا۔۔و۔۔۔وہ کوئی بھی نہیں ہیں بیٹا آپ اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیں اور آپ کے بابا ہیں نا آپ سے بےحد کرتے ہیں چلیں آئیں ہم جھولے لیتے ہیں۔۔ احمر کا دل چور چور ہوگیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شائنہ اتنی خود غرض بھی ہوسکتی ہے۔۔ جب وہ بچوں کو واپس گھر لے کر آیا تو سب سے پہلے اس نے ملازمہ سے پوچھا “کیا شائنہ گھر آگئی ہے ؟؟” اس نے بتایا جی ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئی ہیں اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے یاسمین تم ایسا کرو بچوں کو ان کے کمرے میں لے جاؤ کھانا انہوں نے کھا لیا ہے اب انہوں نے سونا ہے۔۔۔ وہ بچوں کو لے کر ان کے کمرے میں چلی گئی اور احمر سیدھا اپنے بیڈ روم کی طرف چلا گیا۔۔ جب وہ کمرے میں اینٹر ہوا تو شائنہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی اسے دیکھتے ہی اس نے فون کال بند کی موبائل سائیڈ پر رکھا اور منہ پر بلینکٹ اوڑھ لیا۔۔۔ کہاں تھی تم صبح سے ؟؟ کس نے اجازت دی ہے تمہیں اس گھر سے باہر جانے کی ؟؟ ایک دو بار میں نے تمہیں باہر جانے کیا دے دیا دوستوں کے ساتھ تمہارے تو پیر ہی کھل گئے۔۔ بتاؤ مجھے کہاں تھی تم ؟؟ میں جہاں بھی تھی تمہیں اس سے کیا ؟؟ وہ سرد لہجے میں بولی تو وہ اس کی جانب بڑھا۔۔






