اسکی جاسوسی رگ پھڑکی تو وہ فوراً سے بےشتر مگ وہیں چھوڑ اوپر کی جانب لپکا دو دو سیڑھیاں پھلانگتا وہ کسی بندر کو بھی پیچھے چھوڑ گیا تھا۔۔۔
“نہیں نہیں رمشہ رہنے دو”
مہر کی آواز جوں ہی اسکے کانوں میں پڑی وہ پلر کی اوٹ میں ہو گیا۔۔۔۔
رمشہ جو ارحم کی برائیاں کر رہی تھی ارحم کے فون کھینچنے پر اسکو گھورنے لگی۔۔۔
“یہ جھوٹ بول رہی ہے بھابھی آپ کو تو پتا ہے نہ میں کتنا ڈیسنٹ, لوئنگ اور کئیرنگ ہوں”
اسکی دہائیاں عروج پر تھیں۔۔۔
مہر وش بے ساختہ کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔۔
“جی جی ارحم میں جانتی ہوں آپ کتنے کئیرنگ ہیں آپ رمشہ کا بہت خیال رکھتے ہوں گے۔ بس میرے ہی شوہر کا میٹر گھوما ہوا ہے”

اسکے کھلکھلانے پر داؤد جل بھن گیا آنکھیں اپنی ایسی تعریف پر باہر نکل کر گرنے والی ہو گئیں۔۔
“وہ تو ہیں ہی کھڑوش ایسا لگتا ہے ہٹلر کے جانشین ہیں”
اسکی بات پر داؤد کو الگ سرے سے غصہ آیا۔۔۔
“ابھی بتاتا ہوں کون ہٹلر ہے اور کون رومینس کا بادشاہ اسنے پلر کی اوٹ سے نکلتے مہر کو جھپٹ کر اپنے کندھے پر لادا بلکل کسی بوری کی طرح۔۔۔
جبکہ مہر کا دماغ گھوم گیا تھا اس اچانک افتاد پر ۔۔۔۔
“داؤد داؤد یہ کیا بدتمیزی ہے مجھے نیچے اتاریں “۔۔۔۔
اسنے داؤد کے کندھے پر مکے برساتے کہا۔۔۔
“اب تو تمہیں میں اپنے کمرے میں شفٹ کر کے رہوں گا پھر تمہیں پتا چلے گا کون ہٹلر ہے
اس نے مہروش کے قریب جھکتے ہوئے سے اٹھانا چاہا جب حسینہ کے گلا کھنکھارنے پر مہروش کی آنکھ کھلی اور داؤد کو اپنے نزدیک وہ فورا اٹھی۔۔۔۔
اور ٹائم دیکھا جہاں رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔
اس نے ایک نظر کھانے کو دیکھا جو ٹھنڈا پر چڑھ چکا تھا اور ایک نظر اوپر حسینہ پر ڈالیں۔۔۔
” مہر تم فکر مت کرو ہم لیٹ ہوگئے تھے اس لیے کھانا رستے میں ہی کھا لیا ۔۔۔۔
“پھر تو اس کھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں “
مہر نے ایک نظر اتنی محنت سے بنائے ہوئے اپنے کھانے پر ڈالی جو اپنی بےقدری پر رو رہا تھا۔۔
مہر کے دل میں بھامبڑ جل رہے تھے مگر ہونٹوں پر خاموشی کا قفل لگا تھا۔۔
مہر نے اس کا جواب سن کر بے دلی سے کھانا اٹھانا شروع کیا اور سنجیدگی سے سارا کھانا اٹھا کر فریج میں رکھ دیا۔۔۔۔
جیسے آئی تھی ویسے ہی چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی…
اور جب وہ اپنے کپڑے بدل کر باہر نکلی تو داؤد معافی مانگنے کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔
” مہر یار میرا یقین کرو میں جان بوجھ کر لیٹ نہیں ہوتا میں آنا چاہتا تھا مگر مجبوری کے تحت آ نہیں پایا”
اس نے پیچھے سے مہر کو پیار سے کہتے اپنی باہوں میں بھرا۔۔۔۔۔
Dont you dare Dawood shah Dont you dare to touch me…
وہ داؤد کو صوفے پہ دھکا دیتے ہوئے چیخی نہیں بلکہ دھاڑی تھی۔۔۔
” ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کرنا کہا تھا نا میرے بچوں کا دل مت دکھانا ۔۔۔
صبح سے لے کر رات تک وہ تمہارے انتظار میں بیٹھے رہے تمہارا انتظار کرتے کرتے تھک گئے مگر انہیں یقین تھا تم آؤ گے۔۔۔
مگر تم نے کیا کیا تم نہیں آئے تم نے ان کے دلوں کے ساتھ کھیلا۔۔۔۔
بہت آسان ہے نہ تمہارے لئے کسی کا دل توڑ دینا۔۔۔۔
مہر نے آنسو صاف کرتے ایک ایک لفظ بھینچ کر کہا ۔۔۔۔
“فار گاڈ سیک مہر میں وہاں کسی عیاشی کے لئے نہیں بلکہ کام کے لئے جاتا ہوں اتنا اؤور ری_ایکٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔
میں صبح مل کر بچوں سے ان سے معافی مانگ لوں گا۔اٹس ناٹ کا بگ ڈیل”
اس کی ہڈ دھرمی پر مہروش کا دل بری طرح دکھ کیا۔۔۔
تم اچھی طرح جانتی تھی کہ ایان چل نہیں سکتا پھر بھی تم نے اسے ریس میں حصہ لینے دیا۔۔۔۔
کس نے حق دیا تمہیں مجھ سے پوچھے بغیر میرے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا”۔۔۔۔”داؤد”وہ حیرت اور رنج سے بس اتنا ہی بولی۔۔۔مہر نے ایک نظر حسینہ کی طرف دیکھا جو اسے تمسخرانہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“داؤد یہ بات ہم اکیلے میں بھی کر سکتی ہیں”اسنے اپنی مٹھیاں بھینچتے کہا۔۔۔”بات ابھی ہو گی اسی وقت۔۔۔ کیا تمہیں زرہ بھی احساس نہیں ہوا مہر کیا تم ان کو واقعی اپنی اولاد نہیں مانتی”۔۔۔
مہر اسکی بات پر ششدر ہی تو رہ گئی تھی۔۔۔
“داؤد”وہ حیرت سے بس یہی کہ پائی۔۔۔۔اسے بلکل امید نہیں تھی کہ داؤد اسے ایسے سب کے سامنے سگے سوتیلے کا طعنہ دے گا۔۔۔۔
گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکنے لگا تھا۔۔۔آنکھوں میں پانی کی دھند چھا گئی تھی۔اسنے دپٹے کا پلو ہاتھ میں دبوچ رکھا تھا۔۔۔
“اوہ میں کیسے بھول گیا کہ ریان اور ایان تو تمہاری اصلی اولاد ہے ہی نہیں بھلا تمہیں ان کی پرواہ کیوں ہونے لگی”اسنے طنزیہ انداز میں کہا ۔یہ آخری بات تھی جسکی مہر نے داؤد سے امید نہیں کی تھی۔۔۔۔یہ بات مہر کا دل خ۔ون کر گئی تھی کہ وہ اسکے لفظوں کے تیروں سے لہولہان ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔ابھی داؤد کچھ اور کہتا کہ مہر بولی نہیں دھاڑی تھی۔۔۔”بس داؤد صاحب بس جانتی تھی میں کہ آپ مجھے کبھی اپنا مان ہی نہیں سکے تو پھر مجھ پر یقین کیسے کرتے۔۔۔
جب میں آپ پر یقین کرتی ہوں اس سے اگلی بار ہی آپ اس برے طریقے سے میرا یقین توڑتے ہیں کہ میں خود پوری ٹوٹ جاتی ہوں۔۔۔
میں نے ہر طرح سے آپ کو یقین دلایا کہ میں ایک اچھی ماں ہوں۔۔۔
میری محنت, میری ریاضت آپ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔
میں نے نیندیں تک قربان کر دیں اور آپ کہتے ہیں میں نے کیا ہی کیا ہے۔۔۔
میں نے اپنی پسند کو آپ کی پسند میں ڈھال لیا کیا یہ کم تھا۔۔۔
جو آپ مجھے سوتیلے کا طعنہ دے رہے ہیں آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نے ریان ایان کو اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر چاہا ہے۔۔ میں نے کبھی دوسری اولاد کا نہیں سوچا اور اب آخر میں مجھے یہ سننے کو مل رہا ہے کہ یہ میری سگی اولاد نہیں”
مہر درد کی شدت سے گلا پھاڑ کر کہتی ریان, ایان کو اپنی بازوؤں میں بھینچتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
آنسو اس کا چہرہ بھیگوتے چلے گئے تھے ۔۔۔
جبکہ ریان ایان سہمے کھڑے تھے انہوں نے داؤد کو کبھی بھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔
مگر جو آج انہوں نے اپنے باپ کے روپ دیکھا تھا وہ داؤد سے بری طرح ڈر گئے تھے۔۔۔۔
“مہر”
داؤد نے اسے اسے جھنجھوڑتے ہوئے اس کی بات کاٹنی چاہی مگر اس نے داؤد کو دھکا دیتے ہوئے اس کے ہاتھ جھٹکے اور چٹخ کر بولی۔۔۔
“Dont cross your limits dawood shah
اب میں بولوں گی اور تم سنو گے۔۔
میں اپنے گھر والوں تک سے دور رہی کس کے لئے۔۔۔
وہاج کو بھلا دیا کس کے لیے۔۔۔ صرف تمہارے لیے۔۔۔
تمہیں اتنی بار موقع دیا مگر تم ان سب موقعوں کو گنواتے چلے گئے۔۔۔
اور پھر مجھ سے ایک نیا موقع مانگنے کے در پر آتے رہے اور میں پاگلوں کی طرح تمہیں موقع دیتی رہی






