اس اک پل نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں ماہین کو گھر سے بھگا کر شادی کرنے والا تھا اور اس کیساتھ فون پر اگلے دن کا پلان بنا رہا تھا کہ میری بہن کی اس حرکت نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ میرے آنکھوں کے سامنے وہ ایک لڑکے کیساتھ کمرے سے نکلی اور مجھے ایسے اگنور کیا جیسے میراہونا اس کے لیے کوئی معانی نہیں رکھتا۔ کسی کے عزت کیساتھ ایسا پلان میرے اپنے گلے پڑ گیا۔ اور میں صوفے پر ڈھے سا گیا۔

فضا میں ایک عجیب سا بوجھل پن طاری تھا۔ وہ ٹیرس پر ایک ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ موبائل فون کان سے لگا ہوا تھا اور لہجہ نہایت محتاط تھا۔میری بات غور سے سنو، ماہین! صبح آٹھ بجے واک کے لیے نکلنا ہے۔ ٹھیک آٹھ بجے۔ تمہارے گھر سے پارک کا فاصلہ صرف دس منٹ کا ہے۔ اس بار سامنے والے گیٹ سے اندر مت جانا… ہاں، وہیں سے جہاں سفیدے کے درخت ہیں۔ ہاں ٹھیک وہیں کھڑی ہوگی، اور میں وہیں سے تمہیں پک کروں گا۔ نو بجے تک کورٹ بھی کھل جاتا ہے۔ احمر ہے ناں؟ اُس نے تمام انتظامات کر رکھے ہیں۔ بس ایک، ڈیڑھ گھنٹے کی بات ہے۔
آہٹ سن کر اس نے جلدی سے فون پر ہاتھ رکھ دیا۔ سائرہ (بہن) چلی آ رہی تھی۔ اس کی رکی ہوئی سانس باہر نکلی۔بھیا! میں نے آپ کا کمرہ تیار کر دیا ہے۔ ساری صفائی خود کی ہے، رضیہ سے کچھ نہیں کروایا۔ بیڈ شیٹ اور پردے بھی بدل دیے ہیں۔ آپ دیکھ لیں، اگر کچھ اور کروانا ہو تو بتا دیجیے۔نہیں، شکریہ! تم جا کر سو جاؤ، باقی میں خود دیکھ لوں گا۔پھر اس نے دوبارہ فون پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔ کوئی نہیں تھا۔ چھوٹی سائرہ ہے، اس کو اعتماد میں لے رکھا ہے میں نے۔ یہاں تمہارا بہت ساتھ دے گی۔ اماں ابا ابھی مزید یو کے میں ہی رکیں گے۔ طاہر (بھائی) کی بیوی کی ڈیلیوری کے بعد ہی واپس آئیں گے۔ تب تک، کچھ نہ کچھ حالات سازگار ہو ہی جائیں گے۔باقی تمہاری طرف کیا صورت حال ہے، وہ تمہیں خود ہی دینی ہوگی۔اچھا اچھا، کیا ملازمہ آ رہی ہے؟ ٹھیک ہے، پھر بات کریں گے۔اس نے فون بند کیا۔ دو چار گہری سانسیں لیں، شرٹ کا اوپری بٹن کھولا۔ تھوڑا سکون محسوس ہوا تو اپنے کمرے کا رخ کیا۔ دروازہ کھولا تو سحر زدہ رہ گیا۔
سائرہ نے اس کی توقع سے بڑھ کر کمرے کو سجایا سنوارا تھا۔ ہلکے گلابی رنگ کی بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی، اور اسی رنگ کے نفیس پردے کھڑکیوں پر لٹک رہے تھے۔ ایک طرف خوبصورت سی چھوٹی میز رکھی تھی، جس پر نازک سا کرسٹل کا جگ اور گلاس رکھے تھے۔ ٹی وی لاؤنج سے دو بید کی کرسیاں بھی اٹھا کر لائی گئی تھیں، جو بیڈ کی دوسری جانب رکھی گئی تھیں۔ کمرے کی فضا خوشبوؤں سے معطر تھی۔اس نے اشتیاق سے در و دیوار کو دیکھا اور مستقبل میں آنے والے حسین لمحوں کا تصور کر کے مسکرا دیا۔پھر اس نے کمرے کو لاک کیا اور سونے کے لیے نیچے آ کر ٹی وی لاؤنج کا رخ کیا۔ صبح جلدی اٹھنا تھا۔
آنے والے وقت کا خیال کر کے ایک عجیب سی سنسنی پورے وجود میں پھیلتی جا رہی تھی۔
ساری رات کروٹیں بدلتے گزری۔ گھڑی بھر کے لیے آنکھ لگی، مگر علی الصبح ہی الارم نے جگا دیا۔ نیند کی کمی کے باعث سر بھاری ہو رہا تھا۔ چائے کی شدید طلب محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے منہ ہاتھ دھو کر خود ہی کچن کا رخ کیا۔ابھی آٹھ بجنے میں کافی وقت باقی تھا۔ اس نے کڑک والی چائے تیار کی۔ جیسے ہی کپ تھام کر باہر نکلا، لاؤنج میں کسی کے دھیرے دھیرے باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ اس وقت تک تو ڈرائیور بھی نہیں آتا تھا۔اس نے ٹی وی لاؤنج کی کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ سیاہ ٹریک سوٹ میں ملبوس کوئی شخص گیٹ کھول کر باہر جا رہا تھا۔






