When trust became a trap — the haunting tale of Masoom Dosheeza

میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کھانے کی ٹرے میرے ہاتھ سے گر گئی۔ وہ تین آدمی تھے اور میں اکیلا۔  ایک آدمی روبینہ کو پکڑے بیٹھا ہے، اور وہ بے بسی سے رو رہی ہے۔ استاد نے مجھے پکڑ لیا اور دوسرے کمرے میں دھکیل دیا۔ ہم دونوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی۔ روبینہ کی عزت لوٹنے والا اسے بھیڑیے کی طرح بھنبھوڑ رہا تھا۔ بچاری کی سسکیاں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

آج میں زندگی کی  ایک ایسی بھیانک سزا کاٹ رہا ہوں جس کا تصور بھی لوگوں کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دنیا مجھے قاتل کے نام سے جانتی ہے، لیکن کسی کو کیا معلوم کہ کبھی کبھی قاتل بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں۔ یہاں میں اپنی معصومیت کا یقین دلانے نہیں آیا، مگر میری زندگی کی بربادی کی وجہ

محض ایک لڑکی ہے۔
اُس وقت میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرے والد کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں میٹرک مکمل کر کے اسکول سے نکل جاؤں۔ انہوں نے مجھے اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرایا جو ہمارے اسکول میں استاد تھے۔ میں نے نویں جماعت کے امتحانات دیے اور پرچے بہت اچھے کیے۔ مجھے یقین تھا کہ میں ضرور پاس ہو جاؤں گا۔ لیکن ایک شام میرے استاد گھر آئے اور کہنے لگے کہ میرے پرچے اچھے نہیں ہوئے اور میں فیل ہو جاؤں گا۔ یہ سن کر میں پریشان ہو گیا۔ سوچنے لگا کہ جب میں نے امتحان اچھے دیے ہیں تو فیل کیسے ہو سکتا ہوں؟ اسی دوران میرے چچا میری خیریت معلوم کرنے آئے۔ میں نے انہیں ساری بات بتائی تو وہ بھی افسردہ ہو گئے اور استاد سے بات کی۔ استاد نے بتایا کہ

اس نے ہیڈ ماسٹر سے کہہ کر مجھے پاس کروا دیا ہے۔
اگلے دن جب میں اسکول گیا تو محسوس ہوا کہ سب لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ رات کو کسی نے ہیڈ ماسٹر کا دفتر کھولا اور رزلٹ کا سارا ریکارڈ غائب کر دیا ہے، اور اب مجھ پر شک کیا جا رہا ہے۔ اسی وقت مجھے ہیڈ ماسٹر صاحب نے بلوا لیا۔ میں ان کے پاس گیا تو وہ شدید غصے میں تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ چوری میں نے کی ہے۔ میں نے انکار کیا۔ انہوں نے دوبارہ سخت لہجے میں سوال کیا اور دھمکی دی کہ اگر سچ نہ بتایا تو وہ مجھے فیل کر دیں گے۔ میں نے پھر انکار کیا اور کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی اور فوراً مجھے اسکول سے نکال دیا۔
اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ سب میرے استاد کی سازش تھی۔ جس نے پہلے کہا تھا کہ میں فیل ہو رہا ہوں اور بعد میں دعویٰ کیا کہ مجھے پاس کروا دیا ہے۔ میں گھر آ کر بہت رویا۔ اگلی صبح جب میں اسکول جانے لگا تو استاد نے مجھے روکا اور کہا کہ ایک بار نکالا جا چکا ہوں، دوبارہ جاؤں گا تو پھر نکال دیا جاؤں گا۔ وہ میرا استاد تھا اور میں اس کا شاگرد، زیادہ کچھ کہہ نہ سکا۔ صرف اتنا کہا کہ یہ انصاف نہیں ہے، میرے والدین کراچی میں ہیں اور میں یہاں پشاور میں اکیلا ہوں۔ مجھے تعلیم سے محروم نہ کریں۔

استاد نے کہا کہ ایک شرط ہے، اگر مان لو تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ میرے لیے تعلیم کا سوال تھا، میں نے فوراً کہا کہ میں آپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں، بس مجھے اسکول سے نہ نکالا جائے۔ اس نے پوچھا کہ جہاں میں رہتا ہوں، وہاں پڑوس میں ایک لڑکی روبینہ رہتی ہے، کیا میں اسے جانتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ ہاں، وہ تو اکثر ہمارے گھر میری ماں کے پاس آتی ہے۔ استاد نے کہا کہ اگر وہ اسے کھانے پر بلائے تو کیا وہ میرے کہنے پر آ جائے گی۔ میں نے فوراً کہا کہ ہاں، اگر میں کہوں گا تو وہ ضرور آ جائے گی۔ استاد نے کہا کہ وہ روبینہ کو کھانے پر بلانا چاہتا ہے، میں اسے شام کی دعوت دے دوں اور رات کے کھانے کے بعد اسے
اس کے گھر چھوڑ آؤں۔ میں نے کہا کہ بہت اچھا۔

میں روبینہ کے گھر گیا۔ اس کی ماں کو میں برسوں سے خالہ کہتا تھا۔ وہ مجھے بیٹوں کی طرح چاہتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا، خالہ! جہاں میں اب رہتا ہوں، اس گھر میں آج رات دعوت ہے۔ اس دعوت میں روبینہ کی بھی شرکت ضروری ہے، آپ اسے اجازت دے دیں۔ وہ ایک سیدھی سادی عورت تھیں، بولیں، کیوں نہیں بیٹے! تم میرے بچوں جیسے ہو، روبینہ تمہاری بہن ہے، لے جاؤ، لیکن رات کو جلدی واپس چھوڑ دینا۔ میں نے وعدہ کیا اور واپس آ گیا۔

Recommended Posts