Sultana Ka Raaz – Haunting in the Graveyard

رات کا اندھیرا قبرستان پر چھایا ہوا تھا، جہاں صرف ہم چند لوگوں کے قدموں کی آہٹ گونج رہی تھی۔ ہم نے سلطانہ کو دفن کرنے کے لیے ایک کونے میں قبر کھودی تھی۔ آسمان پر بادل سیاہ چادر کی طرح پھیلے ہوئے تھے، جیسے کوئی نامعلوم طاقت ہماری حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ ہوا میں ایک عجیب سی سردی تھی، جو ہڈیوں تک اتر جاتی تھی۔ اچانک، بغیر کسی گرج یا بجلی کے، ہلکی پھوار شروع ہو گئی۔

بوندیں زمین پر گرتی تھیں، جیسے کوئی آسمانی مخلوق خاموشی سے آنسو بہا رہی ہو۔ میں قبر کی مٹی کو ہاتھوں سے سہلا رہا تھا، اسے پیار سے ہموار کر رہا تھا، لیکن کب میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے، مجھے پتا ہی نہ چلا۔ ہاتھوں پر جمے کیچڑ نے ہوش دلایا۔ سب لوگ جا چکے تھے، اور میں قبرستان میں اکیلا رہ گیا تھا۔ سوکھتی مٹی میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی، جیسے سلطانہ کے ہاتھوں کی لکیریں، جو قسمت کی دیوی نے ادھوری چھوڑ دی تھیں۔

میں نے ہاتھ کی لکیروں پر کبھی یقین نہیں کیا، لیکن سلطانہ کی زندگی نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید ان میں کوئی راز چھپا ہے۔ اچانک، جاتے ہوئے بادل زور سے گرجے، جیسے کوئی غیبی طاقت چیخ اٹھی ہو۔ ہوا میں ایک عجیب سی آہٹ گونجی، جیسے قبر کی مٹی کے نیچے سے کوئی سسکی بلند ہوئی ہو۔ میرا دل دہل گیا۔ “نہ سلطانہ، نہ۔ ہمت رکھو، ہم ڈرتے نہیں۔” میں نے لرزتی آواز میں قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ “اب تم سکون میں ہو۔ نہ کوئی چھیڑنے والا، نہ کوئی تکلیف دینے والا۔ اب تم خدا کی محبت بھری، گرم آغوش میں ہو۔” میری آواز ہوا میں تحلیل ہو گئی، لیکن ہچکیوں نے میرا دامن نہ چھوڑا۔

“توبہ! یہ کیا بدتمیزی ہے؟ ایک گندی مخلوق کی قبر پر رو رہے ہو؟ شرم نہیں آتی؟” ایک کرخت، گھناؤنی آواز نے قبرستان کے سناٹے کو چیر دیا۔

میں نے چونک کر دیکھا۔ قبرستان کا چوکیدار، جمیل، کھڑا تھا۔ اس کا بوڑھا، جھریوں بھرا چہرہ، مٹی سے اٹا پھٹا شلوار قمیض، کندھے پر گلابی اور سفید رومال، اور ہاتھ میں بیلچہ۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کی ایسی آگ تھی کہ جیسے وہ کوئی شیطانی روح ہو، جو قبرستان کی تاریکی سے اٹھی ہو۔ “مومنوں کے قبرستان میں اس پلید کو دفن کرنے کی اجازت کس نے دی؟ اور تم، اس کے پرانے عاشق بن کر یہاں آنسو بہا رہے ہو!” اس کا طنز زہر کی طرح چبھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی سردی تھی، جیسے وہ قبرستان کی روحوں کا ترجمان ہو۔

میرا خون کھول اٹھا۔ “کون کہتا ہے سلطانہ پلید تھی؟” میں نے اس کا گریبان پکڑ لیا، میری آواز قبرستان کی دیواروں سے ٹکرائی۔ “وہ تم سے، ہم سب سے بہتر تھی۔ خدا کی نیک روح تھی، سمجھا بدتمیز؟” جمیل گھبرا کر پیچھے ہٹا۔ اس کی آنکھوں میں خوف جھلکا، اور وہ قبروں پر سے پھلانگتا، سائے کی طرح بھاگ گیا۔ اس کی بھاگتی ہوئی آہٹ نے قبرستان کی خاموشی کو اور گہرا کر دیا۔ میں نے قبر کے پاس پڑی پانی کی بالٹی سے ہاتھ دھوئے، جو اب سردی سے کانپ رہے تھے۔ فاتحہ پڑھی، لیکن دل پر ایک بوجھ تھا، جیسے کوئی نامعلوم سایہ میرے پیچھے کھڑا ہو۔ گھر کی طرف چل پڑا، لیکن ہر قدم کے ساتھ سلطانہ کی آواز کانوں میں گونجتی رہی“ماں صدقے!”

محلے میں داخل ہوتے ہی ہر طرف سلطانہ کی یادیں بکھری ہوئی تھیں، جیسے کوئی بھوت اس کے وجود کو ہر گلی، ہر کونے میں بُن رہا ہو۔ چوہدری کی کریانے کی دکان کا ٹوٹا ہوا سیمنٹ کا تھڑا، جہاں سلطانہ اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگاتی تھی، اس کی ہنسی ہوا میں گونجتی تھی۔ تنور کا گرم چبوترہ، جہاں سردیوں کی راتوں میں وہ بیٹھتی، اس کی مسکراہٹ روشنی کی طرح پھیلتی۔ اور میرے گھر کے سامنے، سبزی کی دکان سے متصل وہ تاریک، بدبودار کوٹھری، جہاں سلطانہ اپنی تنہائی کے ساتھ جیا کرتی تھی۔ رات کے اس وقت، گلیاں سنسان تھیں، لیکن ہر طرف ایک عجیب سی آہٹ تھی، جیسے سلطانہ کی گھنٹیاں اب بھی ہوا میں بج رہی ہوں۔ میں نے اپنے قدم تیز کیے، لیکن دل پر ایک خوفناک بوجھ تھا، جیسے کوئی سایہ میرا پیچھا کر رہا ہو۔

Recommended Posts