Besahara Larki – A Helpless Heart in a Harsh World

نعمت صاحب بھی اکیلے ، غیر شادی شدہ تھے۔ مجھ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے تھے۔ میں نے ان سے شادی کی درخواست کر دی۔ لیکن  ان کی منگنی عرصہ قبل چچا زاد سے ہو چکی تھی جو عمر میں ان سے پندرہ برس بڑی ہے۔ وہ گاؤں میں بیٹھی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ میں اپنے حالات سے بہت پریشان تھی سوچا نعمت صاحب سہارا بن جایئں گے۔ آخر ایک دن محلے کا ایک بدمعاش مجھے ہر اساں کرنے لگا۔ اکیلی دیکھ کر ایک بار گھر کی دیوار بھی پھلانگنے کی کوشش کی۔ وہ تو پڑوسیوں نے دیکھ لیا اور عین وقت پر اس کی گردن دبوچ لی۔

ابو کے انتقال کے بعد، اماں اور میں اکیلے رہ گئے تھے۔ گھر کا سہارا چھن جانے کا دکھ تو اپنی جگہ تھا، لیکن زندگی کو آگے بڑھانا بھی ضروری تھا۔ میں نے گریجویشن مکمل کر رکھی تھی اور نوکری کرنا چاہتی تھی تاکہ گھر کا خرچ چلا سکوں۔ اماں اس خیال کے خلاف تھیں، ان کا کہنا تھا کہ زمانہ ٹھیک نہیں ہے، لڑکیوں کے لیے باہر کام کرنا مناسب نہیں۔ میں نے اماں سے کہا کہ اگر زمانہ خراب بھی ہے تو میں تو نہیں۔ اگر ابو کی جمع پونجی ختم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟

 نوکری تو مجھے تب بھی کرنی پڑے گی، تو اب کیوں نہ شروع کر دوں؟

بڑے جتن سے امی کو منایا اور ایک سہیلی کے توسط سے جاب مل گئی۔ جہاں فاریہ نوکری کرتی تھی۔ اُس نے اپنے باس سے میری سفارش کی۔ خوش قسمتی سے ایک آسامی خالی تھی جس پر انہوں نے کسی خاتون کو ہی تعینات کرنا تھا۔ یوں میں نعمت خان کی سیکرٹری لگ گئی جو خود بھی نئے نئے اس محکمے میں تعینات ہوئے تھے اور پشاور سے آئے تھے۔ نعمت بہت سنجیدہ اور کم گو تھے۔ ہر ایک سے اخلاق سے ملتے لیکن اپنے آفس میں کام کرنے والی لڑکیوں سے بہت کم بات کرتے۔ تاہم ان سے عزت سے پیش آتے تھے۔ ان کی یہی بات مجھے پسند تھی۔ میں بھی دل ہی دل میں ان کی عزت کرنے لگی تھی۔

نعمت خان بہت خوبصورت تھے۔ سُرخ و سفید رنگت، دراز قد، نیلی آنکھیں، باوقار شخصیت، جوانی میں سیاہ داڑھی ان کے چہرے پر خوب سجتی تھی۔

 رکھ رکھاؤ سے کسی اعلیٰ خاندان کے چشم و چراغ معلوم ہوتے تھے۔ اس دفتر میں چونکہ ایک طرح سے میں ان کی معاون کے طور پر کام کر رہی تھی، تبھی ان کے ساتھ میرا زیادہ واسطہ رہتا تھا۔ ان کے ساتھ کام کرتے دو سال گزر گئے۔ دو سالوں میں ایک دن بھی انہوں نے کوئی ایسی بات نہ کی کہ جو مجھے بُری لگی ہو۔ وہ میرا اس قدر خیال کرتے، جیسے میں ان کے گھر کی خواتین میں سے ہوں۔ ان کی بلند اخلاقی نے میرے دل میں اُن کے لئے محبت کی ایسی جوت جگا دی جو مجھ کو اندر اندر موم بتی کی طرح پگھلانے لگی۔ نعمت خان کی سنجیدگی اور شرافت کے سامنے عمر بھر بھی اس بات کی جرات نہ کر سکتی تھی کہ اپنے دل کی بات اس پر ظاہر کر سکوں۔ اس کے باوجود میری عبادت میں خود بخود یہ دعا شامل ہو گئی کہ خداوند مجھ کو نعمت خان کی شریک حیات بنا دے۔ انہی دنوں میری والدہ سخت بیمار ہو گئیں اور مجھ کو چند روز ان کی تیمارداری کی خاطر چھٹی لینا پڑی۔ ایک ماں کی ذات ہی اس دنیا میں میرا واحد سہارا تھی۔ انہوں نے میری خاطر بیوگی کاٹی اور اب وہ شدید بیمار تھیں۔ ڈاکٹر نے بتادیا کہ تھوڑے دنوں کی مہمان ہیں۔ ایک روز امی کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ میں نے دفتر فون کیا اور اپنے باس سے چھٹی مانگی۔ انہوں نے والدہ کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

نجانے کیسے اُن سے کہہ دیا کہ نعمت صاحب والدہ تو میرا ساتھ چھوڑ کر جارہی ہیں۔ اب میں ان کے بغیر کیسے جیوں گی، میرا ان کے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔انسانی ہمدردی کا اولین تقاضا تھا کہ ایسے حالات میں جبکہ میری ماں بستر مرگ پر تھیں۔ افسر میری دلجوئی کو آتے۔ مجھے نعمت سے اس بات کی توقع تھی کہ وہ مہربان آفیسر ہے ، لہذا وہ آئے بھی۔ امی جان سے میں اکثر نعمت خان کی تعریفیں کیا کرتی تھی۔ ہر روز ایک ایک بات کی تفصیل ان کو بتائی جو نعمت کے بارے ہوتی تھی۔ امی جان یوں غائبانہ طور پر میرے اس افسر کو اچھی طرح جانتی تھیں۔ جب نعمت صاحب کو علم ہوا کہ ہم ماں، بیٹی کو تو ایمبولینس کر کے دینے والا بھی کوئی نہیں ہے تو وہ روز شام کو امی کی عیادت کو آنے لگے۔

ایک روزامی نے نعمت صاحب سے کہا کہ بیٹا میرے بعد میری بچی کا کوئی نہیں۔ مجھ کو اس کی بہت فکر ہے۔ میرے بعد تم اس کا خیال رکھنا۔

مجھ سے وعدہ کرو کہ خیال رکھو گے۔ ایک مرنے والے کی التجا کو اس وقت تو کوئی بھی نہیں ٹھکرا سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے بھی جی کہہ کر سر کو جھکا لیا- یوں باتیں کرتے کرتے نعمت صاحب کے سامنے ہی میری ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ نعمت خان نے جس طرح میری ماں کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ امی جان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اگر اپنا بیٹا بھی ہوتا تو اس سے بڑھ کر نہ کرتا۔ اب میرے یہ افسر صاحب اچھی طرح سے میرے مسائل سے واقف ہو چکے تھے۔ میں اب تنہا امی جان کے بغیر اس گھر میں اکیلی نہ رہنا چاہتی تھی۔ وہ میرے اس مسئلے سے بھی واقف تھے۔

پریشان تھے، کیا کریں اور کیسے مجھ کو اس پریشانی سے نکالیں۔

وہ خود اپنے گھر ، اپنے شہر سے دور تھے۔ کرائے پر رہ رہے تھے۔ وہ بھی اکیلے ، غیر شادی شدہ تھے۔ مجھ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے تھے۔ دوسرا حل یہ تھا کہ میں اپنے کسی رشتہ دار کے گھر رہوں یا پھر نعمت خان کے کسی واقف کار کے ہاں، جن کی فیمیلی ساتھ رہتی ہو ، اس سے التجا کریں کہ وہ میرا اپنے گھر میں رہنے کا بندوبست کر دیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا تم چاہو تو میں اپنے ایک دوست سے بات کروں ؟ جس کی فیملی ساتھ ہے تم ان کے ساتھ رہ لو۔ میں نے کہا۔ نعمت صاحب میں آپ کے سوا کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی۔ صرف آپ ہی کو اس دنیا میں اپنے لئے قابل اعتبار سمجھتی ہوں کیونکہ امی جان نے کہا تھا کہ ان کے بعد آپ میرا سہارا بنیں گے۔ نعمت صاحب سمجھ گئے کہ میں خود ان سے شادی کی درخواست کر رہی ہوں کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں۔ تم اچھی لڑکی ہو اور تم جیسی لڑکی کو سہارا دینا نیکی کا کام ہے لیکن میں مجبور ہوں۔

میری منگنی عرصہ قبل چچا زاد سے ہو چکی ہے جو عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑی ہے۔ وہ گائوں میں بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے۔ اپنی خاندانی روایات کی وجہ سے میں اس کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور ہوں۔ میں بغیر ٹھوس وجہ کے اس سے شادی سے انکار نہیں کر سکتا۔ مثلاً یہ کہ اس کے کردار میں کمی ہو، لیکن یہ بھی نہیں ہے۔ وہ بد چلن نہیں ہے، بلکہ با کردار اور نیک چلن ہے۔ میں بچپن کے اس بندھن کا پالن کرنے پر مجبور ہوں۔ ان کی بات سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔

Recommended Posts