Bad Chalan Larka – Trapped in a Marriage of Misery

چار سال کی تھی جب امی اور ابو وفات پا گئے۔ میری پرورش میری سگی نانی نے کی۔ جب میں دس برس کی ہوئی، تو نانی نے میرا بیاہ کرنے کی ٹھان لی۔ حالانکہ میں نے ابھی پوری طرح شعور کی دہلیز پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ میرے معصوم ذہن میں شادی کا مطلب صرف چمکیلے کپڑے پہننا، زیور سجانا اور دلہن بن جانا تھا۔شادی کو خوشی کہا جاتا ہے، لیکن ہمارے یہاں شادی ایک عورت کی زندگی میں سب سے بڑی مصیبت اور اذیت بھی بن سکتی ہے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی۔ جب نانی نے کہا، تیری شادی کر رہی ہوں ، تو میں حیرت سے ان کا منہ تکتی رہ گئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ شادیوں میں دولہا کو ہمیشہ ایک خوبصورت، نوجوان انسان کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ سبھی دولہا ایسے ہی ہوتے ہیں۔

ایک دن نانی نے بتایا کہ تیرا دولہا آیا ہے۔ اس وقت ایک پڑوسن بھی ہمارے گھر بیٹھی تھی۔ وہ اشتیاق سے بولی، ذرا دیکھوں تو، کیسا ہے؟تبھی میں نے بھی، پڑوسن کی آڑ میں، اپنے ہونے والے دولہا کو دیکھا۔اوہ میرے خدا، پڑوسن کے منہ سے بے ساختہ نکلا:جمیلہ، پروین پر اتنا بڑا ظلم مت کرو! کیا اس پھول جیسی بچی کو اس بوڑھے کے ساتھ بیاہ دو گی؟ یہ تو عمر میں اس کے باپ سے بھی بڑا لگتا ہے! کسی اور کے قصور کی سزا تم اس بچی کو کیوں دے رہی ہو؟ اگر یہ تم پر بوجھ ہے تو مجھے دے دو، میں اس کا خرچ اٹھا لوں گی۔ رشتہ تو جوڑ کا ڈھونڈا جاتا ہے۔نانی نے سخت لہجے میں جواب دیا کہ تمہیں کیا پتا، جب سر پر مرد نہ ہو، تو جوان بچیوں کی گھر میں کس قدر رکھوالی کرنی پڑتی ہے۔نانی کی یہ بات سن کر پڑوسن خاموشی سے اپنا سا منہ لے کر چلی گئی۔ مگر میں… مجھے تو حالات کی سنگینی کا کچھ اندازہ ہی نہ تھا، کیونکہ میں ابھی کم سن تھی۔ میری تو وہ عمر تھی کہ میں کھیلوں، ہنسوں، خوب کھاؤں پیوں، گڑیا گڈے سے بہلوں۔ مگر نانی نے وہ ظلم کیا جس کے تصور سے ہی لڑکیاں کانپ جاتی ہیں۔میں صرف دس سال کی عمر میں ساٹھ سالہ مرد کی بیوی بنا دی گئی۔

ان دنوں کی تفصیل لکھنا میرے بس کی بات نہیں… بلکہ انہیں یاد نہ کروں تو ہی بہتر ہے۔ یہ وہ سیاہ دن تھے جنہیں میری یادداشت بھی مٹا دینا چاہتی ہے۔یہ ستم ڈھانے والی نانی صرف تین برس میرے ساتھ رہی، اور جب میں تیرہ سال کی عمر میں ایک بچے کی ماں بن گئی، تو اس نے مجھے مکمل طور پر اس بوڑھے کے حوالے کر دیا اور خود اپنے گھر چلی گئی۔اب شعور آ چکا ہے کہ جوانی کیا ہوتی ہے اور اس کے کیا ارمان ہوتے ہیں۔ میرا شوہر، جو مجھ سے عمر میں بہت بڑا تھا، نہایت بد مزاج انسان تھا۔ کبھی کبھار تو محبت سے پیش آتا، لیکن اکثر میری معمولی غلطیوں پر سخت سرزنش کرتا۔ تب میں اپنے والدین کو یاد کرکے گھنٹوں روتی، وہ والدین جو مجھ سے محبت کرتے تھے اور میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتے تھے۔

جب میرے شوہر ملک نے دیکھا کہ یہ بچی نہ خود کو سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی اپنے بچے کو، تو وہ نانی سے اصرار کرنے لگا کہ وہ آ کر ہمارے ساتھ رہیں۔ نانی کو بھی یہی منظور تھا، اس لیے وہ فوراً ہمارے گھر آ گئیں۔ مگر ان کے ساتھ رہنے سے میری مشکلات کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئیں۔میری شادی کے بعد نانی کے رویے میں بہت تبدیلی آ گئی تھی۔ اب وہ نانی کم اور ساس زیادہ لگتی تھیں۔ شوہر اگر مجھ پر ظلم کرتا، تو نانی بجائے کچھ کہنے کے الٹا اسی کا ساتھ دیتیں، اور مجھے برا بھلا کہتیں۔ یہاں تک کہ میرے شوہر کے سامنے مجھے ذلیل کر کے رکھ دیتیں۔ ان کے اس رویے سے ملک کو اور شہ ملتی، اور وہ مزید میری توہین کرنے لگا۔نانی گویا ساس سے بھی بڑھ کر ظلم کرنے لگی تھیں۔

میں بیان نہیں کر سکتی کہ میرے دل میں کتنا درد، کتنا غم چھپا تھا۔ میں بے سہارا تھی، اور اس ظالم نانی کے سوا دنیا میں میرا اور کوئی نہ تھا۔ شاید نانی کا یہ سلوک اس لیے تھا کہ میں دبی رہوں اور میرا گھر بسا رہے، یا شاید اس لیے کہ ملک ایک خوشحال آدمی تھا، اور نانی جب بھی اس سے اپنی ضرورت کے لیے رقم مانگتیں، وہ فوراً پوری کر دیتا۔ نانی کو اور کیا چاہیے تھا؟ انہیں تو اپنی زندگی گزارنی تھی، کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا سہارا نہ تھا۔نانی مجھے گھر سے باہر قدم رکھنے تک کی اجازت نہ دیتی تھیں۔ میں پاس پڑوس میں بھی نہیں جا سکتی تھی۔ دل کی بات کسی سے کہہ نہیں سکتی تھی۔ ہر ظلم، ہر زیادتی چپ چاپ سہتی اور تنہائی میں روتی رہتی تھی۔ اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتی تھی کہ اے رب! یا تو ان دونوں کے دلوں میں میرے لیے رحم ڈال دے، یا پھر مجھے ملک اور نانی دونوں کے ظلم سے نجات دے دے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں ذہنی مریضہ بنتی جا رہی تھی۔ خود پر اس عمر میں جبر آسان نہیں ہوتا۔ بیٹھے بیٹھے دل میں عجیب و غریب وسوسے آنے لگتے۔ کبھی لگتا کہ کہیں گھر کی چھت مجھ پر نہ گر پڑے، کبھی ڈر لگتا کہ زلزلہ نہ آ جائے۔ امنگیں جنم لیتیں اور اسی لمحے دل میں دفن ہو جاتی تھی۔

Recommended Posts