سامنے میز کے پیچھے بیٹھا ہوا شخص سر جھکائے لیپ ٹاپ پر کچھ لکھ رہا تھا۔
“گُڈ مارننگ، مسٹر فادول۔”
آواز نرم مگر پیشہ ورانہ تھی۔

یمیل نے سر اٹھایا۔
لیکن جیسے ہی نگاہ سامنے پڑی —
وقت تھم گیا۔
وہ سبز آنکھیں…
یہ وہی آنکھیں تھیں جنہوں نے چھ سال پہلے ایک رات میں اس کی زندگی بدل دی تھی۔
وہ رات، جو کبھی بھلائے نہ بھولی۔
اس نے بے شمار چہرے دیکھے تھے،
لیکن ان آنکھوں کی نمی، ان کی شدت، ان کی حرارت — وہ کبھی بھولا نہیں تھا۔
اور آج، وہی عورت اس کے سامنے کھڑی تھی —
بالکل انجان چہرے کے ساتھ، مگر وہی آنکھیں، وہی احساس۔
کیا قسمت دوبارہ مذاق کر رہی ہے؟
وہ سوچتا رہا، نگاہیں اس کے چہرے پر جمی رہیں۔
عزینا کے لیے وہ نظروں کا بوجھ غیر معمولی تھا۔
وہ قدرے بےچین ہوئی —
وہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے؟
لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ رکھتے ہوئے اس نے بولنے کی کوشش کی،
“میرا نام عزینا سولانو ہے، اور میں ایمپاورڈ میگزین سے ہوں۔ ہم آپ کے انٹرویو کے لیے…”
عزینا سولانو…
یمیل نے آہستگی سے دل میں اس نام کو دہرایا۔
وہی نام… جسے وہ برسوں سے جاننا چاہتا تھا،
جس عورت کے چہرے کے ساتھ اس نے سینکڑوں خواب دیکھے تھے۔
آج وہی نام اس کے سامنے اتنی سادگی سے ادا ہوا —
جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
وہ خاموش رہا۔
وہ بولتی رہی —
“آپ کا دفتر بہت خوبصورت ہے۔”
لیکن اس کے جواب میں اب بھی خاموشی تھی۔
آخری کوشش کرتے ہوئے عزینا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
“آپ سے مل کر خوشی ہوئی، مسٹر فادول۔”
یمیل نے اس کا ہاتھ تھاما —
اور دھیرے سے پوچھا، “کیا ہم پہلے کبھی ملے ہیں؟”
عزینا چونکی،
“نہیں… میرا خیال ہے نہیں۔”
“اچھا؟ تو پھر یہ تمہارا وہی کھیل ہے نا، جان بوجھ کر انجان بننے کا؟”
اس کے لہجے میں ایک عجیب سا طنز تھا۔
عزینا نے حیرانی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
“معاف کیجیے، آپ کا مطلب…؟”
یمیل کی نگاہیں اس کے چہرے کا ایک ایک نقش پڑھ رہی تھیں —
کیا واقعی اسے یاد نہیں؟
چھ سال… اور وہ ایک لمحہ بھی نہیں بھولا تھا۔
اس کی آواز، اس کی سانس، اس کی لرزش —
سب کچھ آج بھی اسی شدت سے زندہ تھا۔
“تم واقعی مجھے نہیں پہچانتی؟”
اس نے دھیرے سے پوچھا۔
عزینا نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،
“کیا مجھے پہچاننا چاہیے؟ شاید آپ غلط فہمی میں ہیں۔
میں پہلی بار یہاں آئی ہوں، صرف اپنے جریدے کے لیے۔”
یمیل نے گہری سانس لی،
اور ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
اس کی نگاہوں میں اب چبھن تھی،
جیسے کسی نے اس کی یادوں کو جھٹلایا ہو۔
“واقعی، تمہیں یاد نہیں…” وہ نیم مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
لیکن اس کے لہجے میں درد چھپا تھا۔
عزینا کے لیے یہ صورتِ حال مزید عجیب ہو چکی تھی۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ شخص آخر اسے کس کے ساتھ الجھا رہا ہے۔
کیا یہ غلط شناخت میرے انٹرویو کو متاثر کرے گی؟
یمیل کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا —
نہیں، میں اسے اتنی آسانی سے بھولنے نہیں دوں گا۔
وہ آہستہ آہستہ میز کے گرد گھومتا ہوا اس کے قریب آیا۔
عزینا کے قدم پیچھے ہٹے۔
“شاید مجھے جانا چاہیے…” اس نے بےچینی سے کہا۔
یمیل اس کے بالکل سامنے آ کر رکا —
اس کی نگاہیں سیدھی اس کی آنکھوں میں۔
“اب پہچان آئی؟”
عزینا نے ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا،
“میں معذرت چاہتی ہوں، لیکن نہیں…”
“تم شادی شدہ ہو؟”
اس نے اچانک سوال داغا۔
“نہیں!”
وہ حیرت سے بولی،
“یہ کیسا سوال ہے؟”
“منگنی؟ کوئی بوائے فرینڈ؟”
یمیل کے لہجے میں کوئی اور مقصد چھپا تھا۔
عزینا نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،
“نہیں، لیکن آپ یہ سب کیوں—”
“تو پھر ٹھیک ہے۔ بالکل ٹھیک…”
یہ کہہ کر وہ ایک قدم مزید آگے بڑھا —
اور اس لمحے ہوا جیسے لمحے کے لیے رک گئی ہو۔
جیسے ہی یمیل کے لب اُس کے لبوں سے چھوئے، عزینا ساکت رہ گئی۔
اسے لگا جیسے وقت ایک لمحے کے لیے رک گیا ہو — مگر اگلے ہی پل غصے کی ایک لہر اس کے اندر سے اُبھر آئی۔
دفاتر میں طاقتور لوگوں کے ناجائز رویوں کی کہانیاں وہ کئی بار سن چکی تھی،
لیکن کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ خود اس کا سامنا کرے گی۔
اور وہ بھی یمیل فادول جیسے باعزت، مضبوط شخصیت رکھنے والے آدمی سے؟
دل میں تپش بڑھتی گئی،
اس نے فوراً اسے زور سے پیچھے دھکیلا اور چند قدم پیچھے ہٹی۔
سبز آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
“یہ سب کیا تھا؟”
اس کی آواز غصے سے لرز رہی تھی۔
مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں — بس ضبط نے ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔
یمیل چند لمحے خاموش رہا، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ اب بھی نہیں پہچان رہی۔
عزینا نے سرد لہجے میں کہا،
“شاید اسی لیے آپ میڈیا سے دور رہتے ہیں،
تاکہ لوگ آپ کا اصلی چہرہ نہ دیکھ سکیں۔”
یمیل کے لبوں پر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“اور تمہارے خیال میں میں کیسا انسان ہوں، زینی؟”
اس کے لہجے میں جو مانوس نرمی تھی، وہ عزینا کے ضبط کو مزید توڑ گئی۔
“ہم اتنے قریبی نہیں کہ آپ مجھے اُس نام سے پکاریں۔”
یمیل میز کے کنارے ٹیک لگا کر بولا،
“کیا تم یہاں مجھے راضی کرنے نہیں آئیں؟
تو پھر کوشش کیوں نہیں کر رہیں؟”
“میں آپ سے بھیک نہیں مانگوں گی،”
عزینا نے بھرپور اعتماد سے کہا۔
“آپ کو انٹرویو دینا ہوگا۔”
“واقعی؟ اور کیوں؟”
“کیونکہ اگر نہیں دیا تو میں دنیا کو آپ کا اصل چہرہ دکھاؤں گی۔
آپ جیسے لوگ ہمیشہ بچ جاتے ہیں، لیکن میں آپ کو یوں نہیں جانے دوں گی۔”
یمیل کے لبوں پر ہنسی دوڑ گئی۔
“تو تم مجھے دھمکا رہی ہو؟ اگر میں انکار کروں تو تم سب کو بتا دو گی کہ میں نے تمہیں چھوا؟”
“ہاں، بالکل۔”
“اور تمہیں معلوم ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ بلیک میل۔”
“کہہ لیجیے جو کہنا ہے۔ آپ نے زیادتی کی ہے۔”
یمیل نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“اگر کسی نے کسی پر زیادتی کی ہے،
تو وہ تم ہو، عزینا سولانو، میں نہیں۔”










