Shab e Mamnua by Nisha Umar – The Night We Couldn’t Forget

سامنے میز کے پیچھے بیٹھا ہوا شخص سر جھکائے لیپ ٹاپ پر کچھ لکھ رہا تھا۔

“گُڈ مارننگ، مسٹر فادول۔”

آواز نرم مگر پیشہ ورانہ تھی۔

یمیل نے سر اٹھایا۔

لیکن جیسے ہی نگاہ سامنے پڑی —

وقت تھم گیا۔

وہ سبز آنکھیں…

یہ وہی آنکھیں تھیں جنہوں نے چھ سال پہلے ایک رات میں اس کی زندگی بدل دی تھی۔

وہ رات، جو کبھی بھلائے نہ بھولی۔

اس نے بے شمار چہرے دیکھے تھے،

لیکن ان آنکھوں کی نمی، ان کی شدت، ان کی حرارت — وہ کبھی بھولا نہیں تھا۔

اور آج، وہی عورت اس کے سامنے کھڑی تھی —

بالکل انجان چہرے کے ساتھ، مگر وہی آنکھیں، وہی احساس۔

کیا قسمت دوبارہ مذاق کر رہی ہے؟

وہ سوچتا رہا، نگاہیں اس کے چہرے پر جمی رہیں۔

عزینا کے لیے وہ نظروں کا بوجھ غیر معمولی تھا۔

وہ قدرے بےچین ہوئی —

وہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے؟

لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ رکھتے ہوئے اس نے بولنے کی کوشش کی،

“میرا نام عزینا سولانو ہے، اور میں ایمپاورڈ میگزین سے ہوں۔ ہم آپ کے انٹرویو کے لیے…”

عزینا سولانو…

یمیل نے آہستگی سے دل میں اس نام کو دہرایا۔

وہی نام… جسے وہ برسوں سے جاننا چاہتا تھا،

جس عورت کے چہرے کے ساتھ اس نے سینکڑوں خواب دیکھے تھے۔

آج وہی نام اس کے سامنے اتنی سادگی سے ادا ہوا —

جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔

وہ خاموش رہا۔

وہ بولتی رہی —

“آپ کا دفتر بہت خوبصورت ہے۔”

لیکن اس کے جواب میں اب بھی خاموشی تھی۔

آخری کوشش کرتے ہوئے عزینا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

“آپ سے مل کر خوشی ہوئی، مسٹر فادول۔”

یمیل نے اس کا ہاتھ تھاما —

اور دھیرے سے پوچھا، “کیا ہم پہلے کبھی ملے ہیں؟”

عزینا چونکی،

“نہیں… میرا خیال ہے نہیں۔”

“اچھا؟ تو پھر یہ تمہارا وہی کھیل ہے نا، جان بوجھ کر انجان بننے کا؟”

اس کے لہجے میں ایک عجیب سا طنز تھا۔

عزینا نے حیرانی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

“معاف کیجیے، آپ کا مطلب…؟”

یمیل کی نگاہیں اس کے چہرے کا ایک ایک نقش پڑھ رہی تھیں —

کیا واقعی اسے یاد نہیں؟

چھ سال… اور وہ ایک لمحہ بھی نہیں بھولا تھا۔

اس کی آواز، اس کی سانس، اس کی لرزش —

سب کچھ آج بھی اسی شدت سے زندہ تھا۔

“تم واقعی مجھے نہیں پہچانتی؟”

اس نے دھیرے سے پوچھا۔

عزینا نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،

“کیا مجھے پہچاننا چاہیے؟ شاید آپ غلط فہمی میں ہیں۔

میں پہلی بار یہاں آئی ہوں، صرف اپنے جریدے کے لیے۔”

یمیل نے گہری سانس لی،

اور ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

اس کی نگاہوں میں اب چبھن تھی،

جیسے کسی نے اس کی یادوں کو جھٹلایا ہو۔

“واقعی، تمہیں یاد نہیں…” وہ نیم مسکراہٹ کے ساتھ بولا،

لیکن اس کے لہجے میں درد چھپا تھا۔

عزینا کے لیے یہ صورتِ حال مزید عجیب ہو چکی تھی۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ شخص آخر اسے کس کے ساتھ الجھا رہا ہے۔

کیا یہ غلط شناخت میرے انٹرویو کو متاثر کرے گی؟

یمیل کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا —

نہیں، میں اسے اتنی آسانی سے بھولنے نہیں دوں گا۔

وہ آہستہ آہستہ میز کے گرد گھومتا ہوا اس کے قریب آیا۔

عزینا کے قدم پیچھے ہٹے۔

“شاید مجھے جانا چاہیے…” اس نے بےچینی سے کہا۔

یمیل اس کے بالکل سامنے آ کر رکا —

اس کی نگاہیں سیدھی اس کی آنکھوں میں۔

“اب پہچان آئی؟”

عزینا نے ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا،

“میں معذرت چاہتی ہوں، لیکن نہیں…”

“تم شادی شدہ ہو؟”

اس نے اچانک سوال داغا۔

“نہیں!”

وہ حیرت سے بولی،

“یہ کیسا سوال ہے؟”

“منگنی؟ کوئی بوائے فرینڈ؟”

یمیل کے لہجے میں کوئی اور مقصد چھپا تھا۔

عزینا نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،

“نہیں، لیکن آپ یہ سب کیوں—”

“تو پھر ٹھیک ہے۔ بالکل ٹھیک…”

یہ کہہ کر وہ ایک قدم مزید آگے بڑھا —

اور اس لمحے ہوا جیسے لمحے کے لیے رک گئی ہو۔

جیسے ہی یمیل کے لب اُس کے لبوں سے چھوئے، عزینا ساکت رہ گئی۔

اسے لگا جیسے وقت ایک لمحے کے لیے رک گیا ہو — مگر اگلے ہی پل غصے کی ایک لہر اس کے اندر سے اُبھر آئی۔

دفاتر میں طاقتور لوگوں کے ناجائز رویوں کی کہانیاں وہ کئی بار سن چکی تھی،

لیکن کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ خود اس کا سامنا کرے گی۔

اور وہ بھی یمیل فادول جیسے باعزت، مضبوط شخصیت رکھنے والے آدمی سے؟

دل میں تپش بڑھتی گئی،

اس نے فوراً اسے زور سے پیچھے دھکیلا اور چند قدم پیچھے ہٹی۔

سبز آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

“یہ سب کیا تھا؟”

اس کی آواز غصے سے لرز رہی تھی۔

مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں — بس ضبط نے ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔

یمیل چند لمحے خاموش رہا، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ اب بھی نہیں پہچان رہی۔

عزینا نے سرد لہجے میں کہا،

“شاید اسی لیے آپ میڈیا سے دور رہتے ہیں،

تاکہ لوگ آپ کا اصلی چہرہ نہ دیکھ سکیں۔”

یمیل کے لبوں پر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

“اور تمہارے خیال میں میں کیسا انسان ہوں، زینی؟”

اس کے لہجے میں جو مانوس نرمی تھی، وہ عزینا کے ضبط کو مزید توڑ گئی۔

“ہم اتنے قریبی نہیں کہ آپ مجھے اُس نام سے پکاریں۔”

یمیل میز کے کنارے ٹیک لگا کر بولا،

“کیا تم یہاں مجھے راضی کرنے نہیں آئیں؟

تو پھر کوشش کیوں نہیں کر رہیں؟”

“میں آپ سے بھیک نہیں مانگوں گی،”

عزینا نے بھرپور اعتماد سے کہا۔

“آپ کو انٹرویو دینا ہوگا۔”

“واقعی؟ اور کیوں؟”

“کیونکہ اگر نہیں دیا تو میں دنیا کو آپ کا اصل چہرہ دکھاؤں گی۔

آپ جیسے لوگ ہمیشہ بچ جاتے ہیں، لیکن میں آپ کو یوں نہیں جانے دوں گی۔”

یمیل کے لبوں پر ہنسی دوڑ گئی۔

“تو تم مجھے دھمکا رہی ہو؟ اگر میں انکار کروں تو تم سب کو بتا دو گی کہ میں نے تمہیں چھوا؟”

“ہاں، بالکل۔”

“اور تمہیں معلوم ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ بلیک میل۔”

“کہہ لیجیے جو کہنا ہے۔ آپ نے زیادتی کی ہے۔”

یمیل نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“اگر کسی نے کسی پر زیادتی کی ہے،

تو وہ تم ہو، عزینا سولانو، میں نہیں۔”

Sultana Ka Raaz – Haunting in the Graveyard

رات کا اندھیرا قبرستان پر چھایا ہوا تھا، جہاں صرف ہم چند لوگوں کے قدموں کی آہٹ گونج رہی تھی۔ ہم نے سلطانہ کو دفن کرنے کے لیے ایک کونے میں قبر کھودی تھی۔ آسمان پر بادل سیاہ چادر کی طرح پھیلے ہوئے تھے، جیسے کوئی نامعلوم طاقت ہماری حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ ہوا میں ایک عجیب سی سردی تھی، جو ہڈیوں تک اتر جاتی تھی۔ اچانک، بغیر کسی گرج یا بجلی کے، ہلکی پھوار شروع ہو گئی۔

بوندیں زمین پر گرتی تھیں، جیسے کوئی آسمانی مخلوق خاموشی سے آنسو بہا رہی ہو۔ میں قبر کی مٹی کو ہاتھوں سے سہلا رہا تھا، اسے پیار سے ہموار کر رہا تھا، لیکن کب میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے، مجھے پتا ہی نہ چلا۔ ہاتھوں پر جمے کیچڑ نے ہوش دلایا۔ سب لوگ جا چکے تھے، اور میں قبرستان میں اکیلا رہ گیا تھا۔ سوکھتی مٹی میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی، جیسے سلطانہ کے ہاتھوں کی لکیریں، جو قسمت کی دیوی نے ادھوری چھوڑ دی تھیں۔

میں نے ہاتھ کی لکیروں پر کبھی یقین نہیں کیا، لیکن سلطانہ کی زندگی نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید ان میں کوئی راز چھپا ہے۔ اچانک، جاتے ہوئے بادل زور سے گرجے، جیسے کوئی غیبی طاقت چیخ اٹھی ہو۔ ہوا میں ایک عجیب سی آہٹ گونجی، جیسے قبر کی مٹی کے نیچے سے کوئی سسکی بلند ہوئی ہو۔ میرا دل دہل گیا۔ “نہ سلطانہ، نہ۔ ہمت رکھو، ہم ڈرتے نہیں۔” میں نے لرزتی آواز میں قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ “اب تم سکون میں ہو۔ نہ کوئی چھیڑنے والا، نہ کوئی تکلیف دینے والا۔ اب تم خدا کی محبت بھری، گرم آغوش میں ہو۔” میری آواز ہوا میں تحلیل ہو گئی، لیکن ہچکیوں نے میرا دامن نہ چھوڑا۔

“توبہ! یہ کیا بدتمیزی ہے؟ ایک گندی مخلوق کی قبر پر رو رہے ہو؟ شرم نہیں آتی؟” ایک کرخت، گھناؤنی آواز نے قبرستان کے سناٹے کو چیر دیا۔

میں نے چونک کر دیکھا۔ قبرستان کا چوکیدار، جمیل، کھڑا تھا۔ اس کا بوڑھا، جھریوں بھرا چہرہ، مٹی سے اٹا پھٹا شلوار قمیض، کندھے پر گلابی اور سفید رومال، اور ہاتھ میں بیلچہ۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کی ایسی آگ تھی کہ جیسے وہ کوئی شیطانی روح ہو، جو قبرستان کی تاریکی سے اٹھی ہو۔ “مومنوں کے قبرستان میں اس پلید کو دفن کرنے کی اجازت کس نے دی؟ اور تم، اس کے پرانے عاشق بن کر یہاں آنسو بہا رہے ہو!” اس کا طنز زہر کی طرح چبھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی سردی تھی، جیسے وہ قبرستان کی روحوں کا ترجمان ہو۔

میرا خون کھول اٹھا۔ “کون کہتا ہے سلطانہ پلید تھی؟” میں نے اس کا گریبان پکڑ لیا، میری آواز قبرستان کی دیواروں سے ٹکرائی۔ “وہ تم سے، ہم سب سے بہتر تھی۔ خدا کی نیک روح تھی، سمجھا بدتمیز؟” جمیل گھبرا کر پیچھے ہٹا۔ اس کی آنکھوں میں خوف جھلکا، اور وہ قبروں پر سے پھلانگتا، سائے کی طرح بھاگ گیا۔ اس کی بھاگتی ہوئی آہٹ نے قبرستان کی خاموشی کو اور گہرا کر دیا۔ میں نے قبر کے پاس پڑی پانی کی بالٹی سے ہاتھ دھوئے، جو اب سردی سے کانپ رہے تھے۔ فاتحہ پڑھی، لیکن دل پر ایک بوجھ تھا، جیسے کوئی نامعلوم سایہ میرے پیچھے کھڑا ہو۔ گھر کی طرف چل پڑا، لیکن ہر قدم کے ساتھ سلطانہ کی آواز کانوں میں گونجتی رہی“ماں صدقے!”

محلے میں داخل ہوتے ہی ہر طرف سلطانہ کی یادیں بکھری ہوئی تھیں، جیسے کوئی بھوت اس کے وجود کو ہر گلی، ہر کونے میں بُن رہا ہو۔ چوہدری کی کریانے کی دکان کا ٹوٹا ہوا سیمنٹ کا تھڑا، جہاں سلطانہ اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگاتی تھی، اس کی ہنسی ہوا میں گونجتی تھی۔ تنور کا گرم چبوترہ، جہاں سردیوں کی راتوں میں وہ بیٹھتی، اس کی مسکراہٹ روشنی کی طرح پھیلتی۔ اور میرے گھر کے سامنے، سبزی کی دکان سے متصل وہ تاریک، بدبودار کوٹھری، جہاں سلطانہ اپنی تنہائی کے ساتھ جیا کرتی تھی۔ رات کے اس وقت، گلیاں سنسان تھیں، لیکن ہر طرف ایک عجیب سی آہٹ تھی، جیسے سلطانہ کی گھنٹیاں اب بھی ہوا میں بج رہی ہوں۔ میں نے اپنے قدم تیز کیے، لیکن دل پر ایک خوفناک بوجھ تھا، جیسے کوئی سایہ میرا پیچھا کر رہا ہو۔

Ghairat Mand Bhai – A Tale of Blood and Honour

انیلا ہمارے گاؤں کی الہڑ دوشیزہ تھی۔ سولہ برس کی عمر میں وہ ایک نوجوان شہزاد کو دیوانہ وار چاہنے لگی۔ ماں کو سن گن ہوئی تو اس نے سمجھایا کہ اس آگ کے کھیل سے باز آ، ورنہ جان سے جائے گی۔ انیلا کی عمر ایسی نہ تھی کہ نصیحتوں پر عمل کرتی۔ وہ تو شہزاد کے لیے آگ میں کودنے پر بھی تیار تھی۔ شہزاد میندار کے منشی کالڑکا تھا اور اتنا دلیر نہ تھا جتنا انیلا تھی۔ منشی نے جب دیکھا کہ معاملہ بڑھتا جا رہا ہے تو اس نے لڑکے کو اپنے بھائی کے گھر بھجوا دیا جو شہر میں رہتا تھا۔انیلا کو شہزاد کے جانے کا بہت ملال ہوا، وہ اداس رہنے لگی۔

ماں نے موقعہ جانا اور شوہر سے کہا، لڑکی جوان ہو گئی ہے، اس کا رشتہ طے کر دو۔ بیٹی کی شادی جلدی ہو جانی چاہیے کیونکہ زمیندار ٹھیک آدمی نہیں ہے۔ اگر کسی دن اس نے ہماری بیٹی کی قسمت خود طے کرنے کی ٹھان لی، تو اس کی نیت میں فتور آنے میں دیر نہ لگے گی۔ کہیں ہمیں اپنی عزت اور لڑکی سے ہاتھ نہ دھونا پڑ جائے۔ بیوی کی بات فتح محمد کے دل کو لگی۔ اس نے فوراً اپنے بیٹوں سے مشورہ کیا۔ انہی دنوں شہر سے ایک آڑھتی نبی بخش اجناس کا مول تول کرنے آیا ہوا تھا۔ یہ عمر رسیدہ آدمی تھا، جس کی پہلی بیوی کچھ عرصہ پہلے مر گئی تھی اور وہ دوسری شادی گاؤں میں کرنا چاہتا تھا۔

جب وہ اجناس اٹھوانے آیا، تو اس کی نظر انیلا پر پڑی۔ پہلی نظر ہی میں وہ اس کو بھا گئی۔ اس نے اس کے بھائیوں سے رشتہ مانگا اور بدلے میں چالیس ہزار روپے نقد دینے کی پیشکش بھی کی۔ یوں انیلا بی بی کی زندگی کا سودا ہو گیا۔ جب بھی انیلا کو پتہ چلا تو اسے بہت دکھ ہوا، مگر وہ مجبور تھی، چپ کے لوٹ، چپ رہی۔ ادھر شہزاد کے لوٹ آنے کی امید بھی جاتی رہی۔ گاؤں میں لڑکیاں شادی سے انکار کر دیں تب بھی وہی ہوتا ہے جو ان کے باپ بھائی چاہیں۔ انیلا کا نکاح نبی بخش سے اتنی خاموشی سے ہوا کہ زمیندار کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، کیونکہ وہ اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو کسی غیر جگہ بیاہنے کا سخت مخالف تھا۔ اگر کوئی شخص گاؤں سے باہر کسی غیر برادری میں اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا، تو اسے زمیندار سے مشورہ کرنا پڑتا تھا۔ اسی لیے فتح محمد اور اس کے بیٹوں نے یہی مناسب سمجھا کہ زمیندار سے صلاح نہ لی جائے، ورنہ وہ ان کو آڑھتی کے ساتھ بیٹی بیاہنے کی اجازت کبھی نہ دے گا۔ نکاح کے بعد انیلا بے چین رہنے لگی۔ وہ رخصتی سے قبل ہی بھاگ جانا چاہتی تھی کیونکہ اسے نبی بخش بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ وہ اتنا عمر رسیدہ تھا کہ اس کے باپ سے بھی دو سال بڑا لگتا تھا۔

وہ شاید اس کی عمر سے سمجھوتہ کر لیتی اگر اسے شہزاد کی یاد اس قدر نہ ستاتی۔ جس دن اسے سنا کہ نبی بخش اسے رخصت کر کے لے جانے والا ہے، اس نے راتوں رات گھر سے بھاگ نکلنے کا ارادہ کر لیا۔ جب سب گھر والے سو گئے تو وہ غلہ منڈی جا کر ایک ٹرک میں رکھی بوریوں کے پیچھے چھپ گئی۔ ان ٹرکوں پر دن بھر سامان لوڈ کیا جاتا تھا اور پھر وہ رات کو سفر پر روانہ ہو جاتے تھے۔انیلا اپنے بھائی کے کپڑے پہن کر نکلی تھی۔ سر پر پگڑی باندھ کر اس نے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔ عموماً دیہاتی مرد رات کو سفر کرتے ہوئے سرد ہوا سے بچنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ جب وہ مردانہ لباس پہنے، پگڑی کا ڈھانڈھا باندھ کر غلہ منڈی پہنچی، تب وہاں دو ٹرک کھڑے تھے جن پر لوڈنگ مکمل ہو چکی تھی۔ مزدور اپنا کام کر کے جا چکے تھے اور ڈرائیور ابھی آنا تھا۔ ان ٹرکوں کو رات دس بجے چلنا تھا۔ انیلا کا لباس کسی مزدور لڑکے جیسا تھا۔ اگر اسے ٹرک پر چڑھتے کسی نے دیکھا بھی ہو، تو اسے مزدور لڑکا ہی سمجھا ہوگا۔

جب ٹرک بہاولپور پہنچا تو ایک لڑکے نے اسے دیکھ لیا جو اس ٹرک پر رکھوالی کے لیے ساتھ چلتا تھا۔ ڈرائیور اس وقت ہوٹل پر چائے پینے کے لیے اترا ہوا تھا۔ لڑکا بوریوں کی طرف گیا تو اسے اوٹ میں ایک سایہ سا نظر آیا۔ اس نے پوچھا، ادھر کون ہے؟ انیلا ڈر کر دیکھنے لگی۔ تب لڑکے نے اس کے منہ پر ٹارچ کی روشنی ڈالی تو دیکھا کہ سامنے ایک چاند سا چہرہ چمک رہا تھا۔ انیلا نے جلدی سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ رکھوالا لڑکا قریب آگیا اور پوچھا، کون ہو تم اور یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ تب انیلا نے ہاتھ جوڑ دیے تو وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا، اب سچ سچ بتا دو۔ انیلا بولی، بتاتی ہوں مگر ہاتھ جوڑتی ہوں کہ میرے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔ پھر اس نے اپنا سارا احوال بتا دیا اور رو رو کر بھیگ مانگنے لگی کہ مجھ پر رحم کرو اور مجھے تم کسی محفوظ جگہ پہنچا دو۔ لڑکا ڈرائیور کے لوٹ آنے سے پہلے اسے لے کر اترا اور اپنے مالک کے گھر آگیا۔

 

Badkirdar Aurat – When Lust Dares to Challenge Faith

روشن چہرے والا وہ نوجوان ہر روز اس گلی سے گزر رہا تھا۔ اسی گلی میں اک حسین عورت بھی رہتی تھی۔ وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھا کرتی تھی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھےسر جھکا کر اس کی گلی سے گزر جاتا۔ دیکھنے میں کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا۔ لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ اسے دیکھتے ہی وہ عورت اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ کسی طرح وہ نوجوان اس پر نظرِالفت ڈالے۔

لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیرِلب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا۔ اس عورت کو اب ضد سی ہو گئی تھی۔ اسے اپنے حسن پر بڑا مان تھا۔ وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہو سکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے۔اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا کیونکہ وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی۔

خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیاردیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیےلوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو اس کے طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کرے۔بس پھر کیا تھا۔اپنی انّا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہو گئی۔وہ کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کر سکے۔

اس نوجوان کا غرور توڑنے کے لیے وہ کوئی ترکیب سوچنے لگی۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس کے شیطانی دماغ میں ایک منصوبہ بن گیا۔ اس سے وہ اس نوجوان کو اپنے گھر بلا سکتی تھی اور اپنی خواہش بھی پوری کر سکتی تھی۔ نوجوان کو پھانسہ جا سکتا تھا اور پھر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ بھی نہیں سکتا تھا۔اس عورت کے دل و دماغ پر شیطان غالب آ گیا۔ وہ اس عورت کو بار بار اکسا رہا تھا۔اس طرح وہ عورت برائی کی طرف مکمل طور پر مائل ہو چکی تھی۔ وقت ضائع کیے بنا وہ اپنا مقصد پورا کرنا چاہتی تھی۔

اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اس کے قریب آئی اور کہنے لگی: ”بیٹا بات سنو ۔۔۔ تم سے ایک کام ہے۔ میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے شاید مالکن کوئی مسئلہ پوچھنا چاہتی ہے “ لڑکے نے جواب دیا: ”ٹھیک ہے ماں جی آپ ایسا کریں اپنی مالکن کو دروازے پر بلا لیں میں بات سن لیتا ہوں “ عورت بولی: ”بیٹا اس کی کچھ مجبوری ہے وہ گھر سے باہر نہیں آ سکتی۔آپ گھر کے اندر آ جائیں “

کچھ دیر کے لیے اس نوجوان نے کچھ سوچا پھر اس عورت کے ساتھ گھر کے اندر چلا گیا۔اس لڑکے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جو عورت اسے بلا رہی ہےاس کا منصوبہ کیا ہے؟ وہ کیا چاہتی ہے؟لڑکا نہایت شریف، پاکباز اور سادہ دل انسان تھا۔بے چارہ لڑکا اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اس کی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آ گیا تھا۔اس کے ذہن میں تھا کہ مالکن شاید کوئی بوڑھی عورت ہے اور اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے۔

نوکرانی نے اسے کمرے میں بیٹھایا اور انتظار کرنے کا کہ کر باہر چلی گئی۔ لڑکا کمرے میں اکیلا رہ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ حسین عورت اس کمرے میں داخل ہوئی۔نوجوان نے بے اختیار اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی اور اس نے بہت باریک لباس پہنا ہوا تھا۔

Besahara Larki – A Helpless Heart in a Harsh World

نعمت صاحب بھی اکیلے ، غیر شادی شدہ تھے۔ مجھ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے تھے۔ میں نے ان سے شادی کی درخواست کر دی۔ لیکن  ان کی منگنی عرصہ قبل چچا زاد سے ہو چکی تھی جو عمر میں ان سے پندرہ برس بڑی ہے۔ وہ گاؤں میں بیٹھی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ میں اپنے حالات سے بہت پریشان تھی سوچا نعمت صاحب سہارا بن جایئں گے۔ آخر ایک دن محلے کا ایک بدمعاش مجھے ہر اساں کرنے لگا۔ اکیلی دیکھ کر ایک بار گھر کی دیوار بھی پھلانگنے کی کوشش کی۔ وہ تو پڑوسیوں نے دیکھ لیا اور عین وقت پر اس کی گردن دبوچ لی۔

ابو کے انتقال کے بعد، اماں اور میں اکیلے رہ گئے تھے۔ گھر کا سہارا چھن جانے کا دکھ تو اپنی جگہ تھا، لیکن زندگی کو آگے بڑھانا بھی ضروری تھا۔ میں نے گریجویشن مکمل کر رکھی تھی اور نوکری کرنا چاہتی تھی تاکہ گھر کا خرچ چلا سکوں۔ اماں اس خیال کے خلاف تھیں، ان کا کہنا تھا کہ زمانہ ٹھیک نہیں ہے، لڑکیوں کے لیے باہر کام کرنا مناسب نہیں۔ میں نے اماں سے کہا کہ اگر زمانہ خراب بھی ہے تو میں تو نہیں۔ اگر ابو کی جمع پونجی ختم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟

 نوکری تو مجھے تب بھی کرنی پڑے گی، تو اب کیوں نہ شروع کر دوں؟

بڑے جتن سے امی کو منایا اور ایک سہیلی کے توسط سے جاب مل گئی۔ جہاں فاریہ نوکری کرتی تھی۔ اُس نے اپنے باس سے میری سفارش کی۔ خوش قسمتی سے ایک آسامی خالی تھی جس پر انہوں نے کسی خاتون کو ہی تعینات کرنا تھا۔ یوں میں نعمت خان کی سیکرٹری لگ گئی جو خود بھی نئے نئے اس محکمے میں تعینات ہوئے تھے اور پشاور سے آئے تھے۔ نعمت بہت سنجیدہ اور کم گو تھے۔ ہر ایک سے اخلاق سے ملتے لیکن اپنے آفس میں کام کرنے والی لڑکیوں سے بہت کم بات کرتے۔ تاہم ان سے عزت سے پیش آتے تھے۔ ان کی یہی بات مجھے پسند تھی۔ میں بھی دل ہی دل میں ان کی عزت کرنے لگی تھی۔

نعمت خان بہت خوبصورت تھے۔ سُرخ و سفید رنگت، دراز قد، نیلی آنکھیں، باوقار شخصیت، جوانی میں سیاہ داڑھی ان کے چہرے پر خوب سجتی تھی۔

 رکھ رکھاؤ سے کسی اعلیٰ خاندان کے چشم و چراغ معلوم ہوتے تھے۔ اس دفتر میں چونکہ ایک طرح سے میں ان کی معاون کے طور پر کام کر رہی تھی، تبھی ان کے ساتھ میرا زیادہ واسطہ رہتا تھا۔ ان کے ساتھ کام کرتے دو سال گزر گئے۔ دو سالوں میں ایک دن بھی انہوں نے کوئی ایسی بات نہ کی کہ جو مجھے بُری لگی ہو۔ وہ میرا اس قدر خیال کرتے، جیسے میں ان کے گھر کی خواتین میں سے ہوں۔ ان کی بلند اخلاقی نے میرے دل میں اُن کے لئے محبت کی ایسی جوت جگا دی جو مجھ کو اندر اندر موم بتی کی طرح پگھلانے لگی۔ نعمت خان کی سنجیدگی اور شرافت کے سامنے عمر بھر بھی اس بات کی جرات نہ کر سکتی تھی کہ اپنے دل کی بات اس پر ظاہر کر سکوں۔ اس کے باوجود میری عبادت میں خود بخود یہ دعا شامل ہو گئی کہ خداوند مجھ کو نعمت خان کی شریک حیات بنا دے۔ انہی دنوں میری والدہ سخت بیمار ہو گئیں اور مجھ کو چند روز ان کی تیمارداری کی خاطر چھٹی لینا پڑی۔ ایک ماں کی ذات ہی اس دنیا میں میرا واحد سہارا تھی۔ انہوں نے میری خاطر بیوگی کاٹی اور اب وہ شدید بیمار تھیں۔ ڈاکٹر نے بتادیا کہ تھوڑے دنوں کی مہمان ہیں۔ ایک روز امی کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ میں نے دفتر فون کیا اور اپنے باس سے چھٹی مانگی۔ انہوں نے والدہ کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

نجانے کیسے اُن سے کہہ دیا کہ نعمت صاحب والدہ تو میرا ساتھ چھوڑ کر جارہی ہیں۔ اب میں ان کے بغیر کیسے جیوں گی، میرا ان کے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔انسانی ہمدردی کا اولین تقاضا تھا کہ ایسے حالات میں جبکہ میری ماں بستر مرگ پر تھیں۔ افسر میری دلجوئی کو آتے۔ مجھے نعمت سے اس بات کی توقع تھی کہ وہ مہربان آفیسر ہے ، لہذا وہ آئے بھی۔ امی جان سے میں اکثر نعمت خان کی تعریفیں کیا کرتی تھی۔ ہر روز ایک ایک بات کی تفصیل ان کو بتائی جو نعمت کے بارے ہوتی تھی۔ امی جان یوں غائبانہ طور پر میرے اس افسر کو اچھی طرح جانتی تھیں۔ جب نعمت صاحب کو علم ہوا کہ ہم ماں، بیٹی کو تو ایمبولینس کر کے دینے والا بھی کوئی نہیں ہے تو وہ روز شام کو امی کی عیادت کو آنے لگے۔

ایک روزامی نے نعمت صاحب سے کہا کہ بیٹا میرے بعد میری بچی کا کوئی نہیں۔ مجھ کو اس کی بہت فکر ہے۔ میرے بعد تم اس کا خیال رکھنا۔

مجھ سے وعدہ کرو کہ خیال رکھو گے۔ ایک مرنے والے کی التجا کو اس وقت تو کوئی بھی نہیں ٹھکرا سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے بھی جی کہہ کر سر کو جھکا لیا- یوں باتیں کرتے کرتے نعمت صاحب کے سامنے ہی میری ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ نعمت خان نے جس طرح میری ماں کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ امی جان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اگر اپنا بیٹا بھی ہوتا تو اس سے بڑھ کر نہ کرتا۔ اب میرے یہ افسر صاحب اچھی طرح سے میرے مسائل سے واقف ہو چکے تھے۔ میں اب تنہا امی جان کے بغیر اس گھر میں اکیلی نہ رہنا چاہتی تھی۔ وہ میرے اس مسئلے سے بھی واقف تھے۔

پریشان تھے، کیا کریں اور کیسے مجھ کو اس پریشانی سے نکالیں۔

وہ خود اپنے گھر ، اپنے شہر سے دور تھے۔ کرائے پر رہ رہے تھے۔ وہ بھی اکیلے ، غیر شادی شدہ تھے۔ مجھ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے تھے۔ دوسرا حل یہ تھا کہ میں اپنے کسی رشتہ دار کے گھر رہوں یا پھر نعمت خان کے کسی واقف کار کے ہاں، جن کی فیمیلی ساتھ رہتی ہو ، اس سے التجا کریں کہ وہ میرا اپنے گھر میں رہنے کا بندوبست کر دیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا تم چاہو تو میں اپنے ایک دوست سے بات کروں ؟ جس کی فیملی ساتھ ہے تم ان کے ساتھ رہ لو۔ میں نے کہا۔ نعمت صاحب میں آپ کے سوا کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی۔ صرف آپ ہی کو اس دنیا میں اپنے لئے قابل اعتبار سمجھتی ہوں کیونکہ امی جان نے کہا تھا کہ ان کے بعد آپ میرا سہارا بنیں گے۔ نعمت صاحب سمجھ گئے کہ میں خود ان سے شادی کی درخواست کر رہی ہوں کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں۔ تم اچھی لڑکی ہو اور تم جیسی لڑکی کو سہارا دینا نیکی کا کام ہے لیکن میں مجبور ہوں۔

میری منگنی عرصہ قبل چچا زاد سے ہو چکی ہے جو عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑی ہے۔ وہ گائوں میں بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے۔ اپنی خاندانی روایات کی وجہ سے میں اس کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور ہوں۔ میں بغیر ٹھوس وجہ کے اس سے شادی سے انکار نہیں کر سکتا۔ مثلاً یہ کہ اس کے کردار میں کمی ہو، لیکن یہ بھی نہیں ہے۔ وہ بد چلن نہیں ہے، بلکہ با کردار اور نیک چلن ہے۔ میں بچپن کے اس بندھن کا پالن کرنے پر مجبور ہوں۔ ان کی بات سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔

Bad Chalan Larka – Trapped in a Marriage of Misery

چار سال کی تھی جب امی اور ابو وفات پا گئے۔ میری پرورش میری سگی نانی نے کی۔ جب میں دس برس کی ہوئی، تو نانی نے میرا بیاہ کرنے کی ٹھان لی۔ حالانکہ میں نے ابھی پوری طرح شعور کی دہلیز پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ میرے معصوم ذہن میں شادی کا مطلب صرف چمکیلے کپڑے پہننا، زیور سجانا اور دلہن بن جانا تھا۔شادی کو خوشی کہا جاتا ہے، لیکن ہمارے یہاں شادی ایک عورت کی زندگی میں سب سے بڑی مصیبت اور اذیت بھی بن سکتی ہے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی۔ جب نانی نے کہا، تیری شادی کر رہی ہوں ، تو میں حیرت سے ان کا منہ تکتی رہ گئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ شادیوں میں دولہا کو ہمیشہ ایک خوبصورت، نوجوان انسان کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ سبھی دولہا ایسے ہی ہوتے ہیں۔

ایک دن نانی نے بتایا کہ تیرا دولہا آیا ہے۔ اس وقت ایک پڑوسن بھی ہمارے گھر بیٹھی تھی۔ وہ اشتیاق سے بولی، ذرا دیکھوں تو، کیسا ہے؟تبھی میں نے بھی، پڑوسن کی آڑ میں، اپنے ہونے والے دولہا کو دیکھا۔اوہ میرے خدا، پڑوسن کے منہ سے بے ساختہ نکلا:جمیلہ، پروین پر اتنا بڑا ظلم مت کرو! کیا اس پھول جیسی بچی کو اس بوڑھے کے ساتھ بیاہ دو گی؟ یہ تو عمر میں اس کے باپ سے بھی بڑا لگتا ہے! کسی اور کے قصور کی سزا تم اس بچی کو کیوں دے رہی ہو؟ اگر یہ تم پر بوجھ ہے تو مجھے دے دو، میں اس کا خرچ اٹھا لوں گی۔ رشتہ تو جوڑ کا ڈھونڈا جاتا ہے۔نانی نے سخت لہجے میں جواب دیا کہ تمہیں کیا پتا، جب سر پر مرد نہ ہو، تو جوان بچیوں کی گھر میں کس قدر رکھوالی کرنی پڑتی ہے۔نانی کی یہ بات سن کر پڑوسن خاموشی سے اپنا سا منہ لے کر چلی گئی۔ مگر میں… مجھے تو حالات کی سنگینی کا کچھ اندازہ ہی نہ تھا، کیونکہ میں ابھی کم سن تھی۔ میری تو وہ عمر تھی کہ میں کھیلوں، ہنسوں، خوب کھاؤں پیوں، گڑیا گڈے سے بہلوں۔ مگر نانی نے وہ ظلم کیا جس کے تصور سے ہی لڑکیاں کانپ جاتی ہیں۔میں صرف دس سال کی عمر میں ساٹھ سالہ مرد کی بیوی بنا دی گئی۔

ان دنوں کی تفصیل لکھنا میرے بس کی بات نہیں… بلکہ انہیں یاد نہ کروں تو ہی بہتر ہے۔ یہ وہ سیاہ دن تھے جنہیں میری یادداشت بھی مٹا دینا چاہتی ہے۔یہ ستم ڈھانے والی نانی صرف تین برس میرے ساتھ رہی، اور جب میں تیرہ سال کی عمر میں ایک بچے کی ماں بن گئی، تو اس نے مجھے مکمل طور پر اس بوڑھے کے حوالے کر دیا اور خود اپنے گھر چلی گئی۔اب شعور آ چکا ہے کہ جوانی کیا ہوتی ہے اور اس کے کیا ارمان ہوتے ہیں۔ میرا شوہر، جو مجھ سے عمر میں بہت بڑا تھا، نہایت بد مزاج انسان تھا۔ کبھی کبھار تو محبت سے پیش آتا، لیکن اکثر میری معمولی غلطیوں پر سخت سرزنش کرتا۔ تب میں اپنے والدین کو یاد کرکے گھنٹوں روتی، وہ والدین جو مجھ سے محبت کرتے تھے اور میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتے تھے۔

جب میرے شوہر ملک نے دیکھا کہ یہ بچی نہ خود کو سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی اپنے بچے کو، تو وہ نانی سے اصرار کرنے لگا کہ وہ آ کر ہمارے ساتھ رہیں۔ نانی کو بھی یہی منظور تھا، اس لیے وہ فوراً ہمارے گھر آ گئیں۔ مگر ان کے ساتھ رہنے سے میری مشکلات کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئیں۔میری شادی کے بعد نانی کے رویے میں بہت تبدیلی آ گئی تھی۔ اب وہ نانی کم اور ساس زیادہ لگتی تھیں۔ شوہر اگر مجھ پر ظلم کرتا، تو نانی بجائے کچھ کہنے کے الٹا اسی کا ساتھ دیتیں، اور مجھے برا بھلا کہتیں۔ یہاں تک کہ میرے شوہر کے سامنے مجھے ذلیل کر کے رکھ دیتیں۔ ان کے اس رویے سے ملک کو اور شہ ملتی، اور وہ مزید میری توہین کرنے لگا۔نانی گویا ساس سے بھی بڑھ کر ظلم کرنے لگی تھیں۔

میں بیان نہیں کر سکتی کہ میرے دل میں کتنا درد، کتنا غم چھپا تھا۔ میں بے سہارا تھی، اور اس ظالم نانی کے سوا دنیا میں میرا اور کوئی نہ تھا۔ شاید نانی کا یہ سلوک اس لیے تھا کہ میں دبی رہوں اور میرا گھر بسا رہے، یا شاید اس لیے کہ ملک ایک خوشحال آدمی تھا، اور نانی جب بھی اس سے اپنی ضرورت کے لیے رقم مانگتیں، وہ فوراً پوری کر دیتا۔ نانی کو اور کیا چاہیے تھا؟ انہیں تو اپنی زندگی گزارنی تھی، کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا سہارا نہ تھا۔نانی مجھے گھر سے باہر قدم رکھنے تک کی اجازت نہ دیتی تھیں۔ میں پاس پڑوس میں بھی نہیں جا سکتی تھی۔ دل کی بات کسی سے کہہ نہیں سکتی تھی۔ ہر ظلم، ہر زیادتی چپ چاپ سہتی اور تنہائی میں روتی رہتی تھی۔ اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتی تھی کہ اے رب! یا تو ان دونوں کے دلوں میں میرے لیے رحم ڈال دے، یا پھر مجھے ملک اور نانی دونوں کے ظلم سے نجات دے دے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں ذہنی مریضہ بنتی جا رہی تھی۔ خود پر اس عمر میں جبر آسان نہیں ہوتا۔ بیٹھے بیٹھے دل میں عجیب و غریب وسوسے آنے لگتے۔ کبھی لگتا کہ کہیں گھر کی چھت مجھ پر نہ گر پڑے، کبھی ڈر لگتا کہ زلزلہ نہ آ جائے۔ امنگیں جنم لیتیں اور اسی لمحے دل میں دفن ہو جاتی تھی۔

Officer ki Chaal – A Girl Betrayed by Power

خدیجہ گھر سے تمام جمع پونجی بھی لے گئی تھی لیکن جب گھر میں اس کی غیر موجودگی کا پتا چلا تب بہت دیر ہو چکی تھی۔ جب بھائی اس کو ڈھونڈتا ڈاک بنگلے پہنچا تو وہ وہاں قابل اعتراض حالت میں ملی جبکہ زیور اور نقدی لے کر وہ افسر وہاں سے فرار ہو چکا تھا۔ خدیجہ کو اس نے نشہ آور کوئی شے پلا دی تھی۔

 جمال بہن کو اس حال میں دیکھ کر غیرت سے آگ کا شعلہ بن گیا

نویں جماعت اچھے نمبروں سے پاس کر لی تو امی ابو بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کو امید نہ تھی کہ میں پاس بھی ہو جائوں گی۔ مجھ کو نئی کلاس میں جانے کی بہت خوشی تھی۔ مزید یہ کہ امی نے چھٹیوں میں ماموں جان کے ساتھ گائوں بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ اچھے نمبروں کے ساتھ مشروط تھا۔

کچھ وجوہ کی بنا پر امی اپنے میکے نہیں جاتی تھیں۔

میں اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ جارہی تھی، تبھی پھولے نہ سماتی تھی۔ چھٹیاں ہوتے ہی ماموں لینے آ گئے اور ہم گانوں روانہ ہو گئے۔ دوران سفر تمام راستہ سوچتی جارہی تھی کہ وہاں کے لوگ کتنے سادہ ہوں گے جب کہ میں خود بھی سیدھی سادی لڑکی تھی۔ ان دنوں دنیا کے نشیب و فراز کو اچھی طرح نہیں سمجھتی تھی۔ یہاں کے لوگ واقعی بہت سادہ تھے۔ دیہاتی لڑکیاں آن واحد میں اکٹھی ہو گئیں اور انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال دیا جیسے میں

کوئی آسمان سے اتری اپسرا ہوں۔

میں بہت خوش تھی۔ ان سادہ لوح لڑکیوں میں ایک بہت اچھی لگی۔ اس کی شوخیاں دل موہ لینے والی تھیں حالانکہ میں سنجیدہ اور سکون پسند تھی، پھر بھی وہ شوخ میرے دل کو بھا گئی تاہم ایک بات میں نے محسوس کی کہ یہ لڑکی خدیجہ کھل کر نہیں ہنستی تھی اور جب ہنستی تو اس کی ہنسی میں اداسی جھلکتی تھی۔ خدیجہ میں جانے کیا بات تھی کہ میری اس کی دوستی منٹوں میں ہو گئی جب کہ میں شہری اور وہ کلی طور پر دیہاتی لڑکی تھی۔ دیگر دیہاتی لڑکیوں کی مانند اس میں اجڑ پن بالکل نہیں تھا۔ چند دنوں میں ہی اس کے ساتھ دوستی اتنی ہو گئی کہ اب ہم اکٹھی باہر جانے لگیں۔

باہر نکل کر مجھ کو احساس ہوا کہ یہاں کے لوگ خدیجہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔ وہ اس سے بے رخی سے بات کرتے اور کسی کارویہ تو بھر پور اہانت بھرا ہوتا تھا۔ اس کے گھر گئی، وہاں بھی اس کے ساتھ ایسا سلوک تھا۔ ایک بڑا بھائی جمال تھا اور ایک چھوٹی بہن تھی جس کا نام نازو تھا۔ وہ ایک اچھی فیملی تھی۔

 اس کے باوجود خدیجہ وہاں خوش نہیں تھی، بس ایک نازو تھی جو اپنی بہن سے پیار کرتی تھی اور اس کا خیال رکھتی تھی۔

جب ماموں کو پتا چلا کہ میری دوستی اس لڑکی سے ہو گئی ہے تو ان کو برا لگا اور انہوں نے میرا اس کے ساتھ میل جول بند کرا دیا۔ میں پریشان ہو گئی۔ آخر ایسی کیا بات ہے کہ یہ لوگ اس بیچاری کو اتنا برا سمجھتے ہیں۔ایک دن دوپہر کے وقت نازو میرے پاس آئی۔ اس وقت نانی باہر تھیں اور نانا کھیتوں پر تھے ، میں اور ممانی گھر پر تھیں۔ نازو کو کمرے میں لے آئی اور اصرار کیا کہ تم اپنی بہن کے بارے میں بتائو کیا معاملہ ہے ؟ تب وہ یوں گویا ہوئی۔

سائرہ باجی، یہ خدیجہ آپی ، اماں باوا کا کہنا نہیں سنتی تھی۔ اماں منع کرتی تھیں کہ پلیا سے اس طرف مت جایا کرو وہ ہمارا علاقہ نہیں ہے بلکہ سرکاری علاقے میں آتا ہے، وہاں ایک ڈاک بنگلہ ہے جس میں سرکاری آفیسر آکر ٹھہرتے ہیں۔ یہ پھر بھی ادھر چلی جاتی تھیں۔ گائوں والے اپنی بیٹیوں کو ڈاک بنگلوں کی طرف کبھی نہیں جانے دیتے۔

مگر کیوں ؟ میں نے پوچھا۔ اس لئے کہ ادھر جانے سے کبھی کبھی بربادی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

ایک بار یہ اکیلی اس طرف گئیں۔ ڈاک بنگلہ اکثر خالی پڑا رہتا تھا۔ چوکیدار تبھی صفائی کرتا جب وہاں کوئی افسر بابو آ کر ٹھہرتا۔ بنگلے کے احاطے میں جامن ، بیر اور آم کے درخت ہیں۔ شہتوت بھی لگے ہیں۔ یہ ان کو توڑنے کے لالچ میں جاتیں۔ کئی بار مجھے بھی بہلا کر ساتھ لے لیا کرتیں۔ اماں نے مجھ کو بہت ڈانٹا کہ تو اس کے ساتھ مت جایا کر ، جب تو نہ جائے گی تو یہ بھی اکیلی جانے سے ڈرے گی مگر ہماری بہن بڑی نڈر ہے، یہ موقع ملتے اکیلی جا نکلتی۔ایک روز یہ

وہاں گئیں تو ایک افسر آیا ہوا تھا، اس نے ان کو باتوں میں لگا لیا اور دوبارہ آنے کا وعدہ لیا۔

جامن توڑنے کے بہانے یہ روز چوری چھپے اس سے باتیں کرنے جانے لگیں۔ ایک دن چوکیدار نے دیکھ لیا، بنگلے کے باغ میں بابو سے باتیں کرتے ، وہ خانساماں بھی تھا۔ اس نے کچن کی کھڑکی سے ان کو دیکھا تھا مگر افسر کے ڈر سے خاموش رہا۔ افسر نے ان کو تحفے بھی دیئے اور شادی کا وعدہ کیا ، کہا کہ میں دوبارہ آئوں گا تو بارات لے کر آئوں گا۔

When trust became a trap — the haunting tale of Masoom Dosheeza

میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کھانے کی ٹرے میرے ہاتھ سے گر گئی۔ وہ تین آدمی تھے اور میں اکیلا۔  ایک آدمی روبینہ کو پکڑے بیٹھا ہے، اور وہ بے بسی سے رو رہی ہے۔ استاد نے مجھے پکڑ لیا اور دوسرے کمرے میں دھکیل دیا۔ ہم دونوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی۔ روبینہ کی عزت لوٹنے والا اسے بھیڑیے کی طرح بھنبھوڑ رہا تھا۔ بچاری کی سسکیاں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

آج میں زندگی کی  ایک ایسی بھیانک سزا کاٹ رہا ہوں جس کا تصور بھی لوگوں کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دنیا مجھے قاتل کے نام سے جانتی ہے، لیکن کسی کو کیا معلوم کہ کبھی کبھی قاتل بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں۔ یہاں میں اپنی معصومیت کا یقین دلانے نہیں آیا، مگر میری زندگی کی بربادی کی وجہ

محض ایک لڑکی ہے۔
اُس وقت میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرے والد کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں میٹرک مکمل کر کے اسکول سے نکل جاؤں۔ انہوں نے مجھے اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرایا جو ہمارے اسکول میں استاد تھے۔ میں نے نویں جماعت کے امتحانات دیے اور پرچے بہت اچھے کیے۔ مجھے یقین تھا کہ میں ضرور پاس ہو جاؤں گا۔ لیکن ایک شام میرے استاد گھر آئے اور کہنے لگے کہ میرے پرچے اچھے نہیں ہوئے اور میں فیل ہو جاؤں گا۔ یہ سن کر میں پریشان ہو گیا۔ سوچنے لگا کہ جب میں نے امتحان اچھے دیے ہیں تو فیل کیسے ہو سکتا ہوں؟ اسی دوران میرے چچا میری خیریت معلوم کرنے آئے۔ میں نے انہیں ساری بات بتائی تو وہ بھی افسردہ ہو گئے اور استاد سے بات کی۔ استاد نے بتایا کہ

اس نے ہیڈ ماسٹر سے کہہ کر مجھے پاس کروا دیا ہے۔
اگلے دن جب میں اسکول گیا تو محسوس ہوا کہ سب لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ رات کو کسی نے ہیڈ ماسٹر کا دفتر کھولا اور رزلٹ کا سارا ریکارڈ غائب کر دیا ہے، اور اب مجھ پر شک کیا جا رہا ہے۔ اسی وقت مجھے ہیڈ ماسٹر صاحب نے بلوا لیا۔ میں ان کے پاس گیا تو وہ شدید غصے میں تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ چوری میں نے کی ہے۔ میں نے انکار کیا۔ انہوں نے دوبارہ سخت لہجے میں سوال کیا اور دھمکی دی کہ اگر سچ نہ بتایا تو وہ مجھے فیل کر دیں گے۔ میں نے پھر انکار کیا اور کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی اور فوراً مجھے اسکول سے نکال دیا۔
اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ سب میرے استاد کی سازش تھی۔ جس نے پہلے کہا تھا کہ میں فیل ہو رہا ہوں اور بعد میں دعویٰ کیا کہ مجھے پاس کروا دیا ہے۔ میں گھر آ کر بہت رویا۔ اگلی صبح جب میں اسکول جانے لگا تو استاد نے مجھے روکا اور کہا کہ ایک بار نکالا جا چکا ہوں، دوبارہ جاؤں گا تو پھر نکال دیا جاؤں گا۔ وہ میرا استاد تھا اور میں اس کا شاگرد، زیادہ کچھ کہہ نہ سکا۔ صرف اتنا کہا کہ یہ انصاف نہیں ہے، میرے والدین کراچی میں ہیں اور میں یہاں پشاور میں اکیلا ہوں۔ مجھے تعلیم سے محروم نہ کریں۔

استاد نے کہا کہ ایک شرط ہے، اگر مان لو تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ میرے لیے تعلیم کا سوال تھا، میں نے فوراً کہا کہ میں آپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں، بس مجھے اسکول سے نہ نکالا جائے۔ اس نے پوچھا کہ جہاں میں رہتا ہوں، وہاں پڑوس میں ایک لڑکی روبینہ رہتی ہے، کیا میں اسے جانتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ ہاں، وہ تو اکثر ہمارے گھر میری ماں کے پاس آتی ہے۔ استاد نے کہا کہ اگر وہ اسے کھانے پر بلائے تو کیا وہ میرے کہنے پر آ جائے گی۔ میں نے فوراً کہا کہ ہاں، اگر میں کہوں گا تو وہ ضرور آ جائے گی۔ استاد نے کہا کہ وہ روبینہ کو کھانے پر بلانا چاہتا ہے، میں اسے شام کی دعوت دے دوں اور رات کے کھانے کے بعد اسے
اس کے گھر چھوڑ آؤں۔ میں نے کہا کہ بہت اچھا۔

میں روبینہ کے گھر گیا۔ اس کی ماں کو میں برسوں سے خالہ کہتا تھا۔ وہ مجھے بیٹوں کی طرح چاہتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا، خالہ! جہاں میں اب رہتا ہوں، اس گھر میں آج رات دعوت ہے۔ اس دعوت میں روبینہ کی بھی شرکت ضروری ہے، آپ اسے اجازت دے دیں۔ وہ ایک سیدھی سادی عورت تھیں، بولیں، کیوں نہیں بیٹے! تم میرے بچوں جیسے ہو، روبینہ تمہاری بہن ہے، لے جاؤ، لیکن رات کو جلدی واپس چھوڑ دینا۔ میں نے وعدہ کیا اور واپس آ گیا۔

From passion to punishment — a boy’s awakening in Laubali Larka

اس اک پل نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں ماہین کو گھر سے بھگا کر شادی کرنے والا تھا اور اس کیساتھ فون پر اگلے دن کا پلان بنا رہا تھا کہ میری بہن کی اس حرکت نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ میرے آنکھوں کے سامنے وہ ایک لڑکے کیساتھ کمرے سے نکلی اور مجھے ایسے اگنور کیا جیسے میراہونا اس کے لیے کوئی معانی نہیں رکھتا۔ کسی کے عزت کیساتھ ایسا پلان میرے اپنے گلے پڑ گیا۔ اور میں صوفے پر ڈھے سا گیا۔

فضا میں ایک عجیب سا بوجھل پن طاری تھا۔ وہ ٹیرس پر ایک ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ موبائل فون کان سے لگا ہوا تھا اور لہجہ نہایت محتاط تھا۔میری بات غور سے سنو، ماہین! صبح آٹھ بجے واک کے لیے نکلنا ہے۔ ٹھیک آٹھ بجے۔ تمہارے گھر سے پارک کا فاصلہ صرف دس منٹ کا ہے۔ اس بار سامنے والے گیٹ سے اندر مت جانا… ہاں، وہیں سے جہاں سفیدے کے درخت ہیں۔ ہاں ٹھیک وہیں کھڑی ہوگی، اور میں وہیں سے تمہیں پک کروں گا۔ نو بجے تک کورٹ بھی کھل جاتا ہے۔ احمر ہے ناں؟ اُس نے تمام انتظامات کر رکھے ہیں۔ بس ایک، ڈیڑھ گھنٹے کی بات ہے۔

آہٹ سن کر اس نے جلدی سے فون پر ہاتھ رکھ دیا۔ سائرہ (بہن) چلی آ رہی تھی۔ اس کی رکی ہوئی سانس باہر نکلی۔بھیا! میں نے آپ کا کمرہ تیار کر دیا ہے۔ ساری صفائی خود کی ہے، رضیہ سے کچھ نہیں کروایا۔ بیڈ شیٹ اور پردے بھی بدل دیے ہیں۔ آپ دیکھ لیں، اگر کچھ اور کروانا ہو تو بتا دیجیے۔نہیں، شکریہ! تم جا کر سو جاؤ، باقی میں خود دیکھ لوں گا۔پھر اس نے دوبارہ فون پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔ کوئی نہیں تھا۔ چھوٹی سائرہ ہے، اس کو اعتماد میں لے رکھا ہے میں نے۔ یہاں تمہارا بہت ساتھ دے گی۔ اماں ابا ابھی مزید یو کے میں ہی رکیں گے۔ طاہر (بھائی) کی بیوی کی ڈیلیوری کے بعد ہی واپس آئیں گے۔ تب تک، کچھ نہ کچھ حالات سازگار ہو ہی جائیں گے۔باقی تمہاری طرف کیا صورت حال ہے، وہ تمہیں خود ہی دینی ہوگی۔اچھا اچھا، کیا ملازمہ آ رہی ہے؟ ٹھیک ہے، پھر بات کریں گے۔اس نے فون بند کیا۔ دو چار گہری سانسیں لیں، شرٹ کا اوپری بٹن کھولا۔ تھوڑا سکون محسوس ہوا تو اپنے کمرے کا رخ کیا۔ دروازہ کھولا تو سحر زدہ رہ گیا۔

سائرہ نے اس کی توقع سے بڑھ کر کمرے کو سجایا سنوارا تھا۔ ہلکے گلابی رنگ کی بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی، اور اسی رنگ کے نفیس پردے کھڑکیوں پر لٹک رہے تھے۔ ایک طرف خوبصورت سی چھوٹی میز رکھی تھی، جس پر نازک سا کرسٹل کا جگ اور گلاس رکھے تھے۔ ٹی وی لاؤنج سے دو بید کی کرسیاں بھی اٹھا کر لائی گئی تھیں، جو بیڈ کی دوسری جانب رکھی گئی تھیں۔ کمرے کی فضا خوشبوؤں سے معطر تھی۔اس نے اشتیاق سے در و دیوار کو دیکھا اور مستقبل میں آنے والے حسین لمحوں کا تصور کر کے مسکرا دیا۔پھر اس نے کمرے کو لاک کیا اور سونے کے لیے نیچے آ کر ٹی وی لاؤنج کا رخ کیا۔ صبح جلدی اٹھنا تھا۔

آنے والے وقت کا خیال کر کے ایک عجیب سی سنسنی پورے وجود میں پھیلتی جا رہی تھی۔

ساری رات کروٹیں بدلتے گزری۔ گھڑی بھر کے لیے آنکھ لگی، مگر علی الصبح ہی الارم نے جگا دیا۔ نیند کی کمی کے باعث سر بھاری ہو رہا تھا۔ چائے کی شدید طلب محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے منہ ہاتھ دھو کر خود ہی کچن کا رخ کیا۔ابھی آٹھ بجنے میں کافی وقت باقی تھا۔ اس نے کڑک والی چائے تیار کی۔ جیسے ہی کپ تھام کر باہر نکلا، لاؤنج میں کسی کے دھیرے دھیرے باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ اس وقت تک تو ڈرائیور بھی نہیں آتا تھا۔اس نے ٹی وی لاؤنج کی کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ سیاہ ٹریک سوٹ میں ملبوس کوئی شخص گیٹ کھول کر باہر جا رہا تھا۔